مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 56
فرمودہ ۱۹۶۷ء 56 د دمشعل ل راه جلد دوم کس طرح پیار کے جلوے۔رحمت کے جلوے۔فضل کے جلوے۔احسان کے جلوے ظاہر کر رہا ہے۔ہر کام میں وہ اس کا ممد ہو جاتا ہے۔ہر مصیبت کے وقت وہ اس کی ڈھارس بندھاتا ہے۔ہر ضرورت کے وقت وہ اس کی نصرت کرتا ہے اور ایک احمدی کے دل میں یہ خواہش ہے کہ خدا کرے کہ اسلام جلد تر تمام دنیا میں غالب آجائے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کی نہایت ہی حقیر کوششوں کے نتیجہ میں اتنے عظیم نتائج پیدا کر رہا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور کوئی فلسفہ اس کی حکمت کو بیان نہیں کر سکتا۔غرض خدا تعالیٰ ہر آن آپ پر اپنے فضلوں اور رحمتوں کی بارش کر رہا ہے اور اس بارش میں ( یعنی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش میں تیزی اور شدت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور انسان جب سوچتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم انتہائی قربانیاں اس کے حضور پیش کریں تا کہ وہ انتہائی فضلوں کی بارش ہم پر کرے اور ہمیں اپنا مقصد اور مدعا حاصل ہو جائے اور ہم اپنی زندگیوں میں اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ لیں کہ وہ زبانیں جو نبی اکرم می پرطعن کرنے والی تھیں۔ان زبانوں کو خدا کے فرشتوں نے ان مونہوں سے نکال کر باہر پھینک دیا اور ان کی جگہ ان زبانوں کو ان مونہوں میں رکھ دیا۔جن زبانوں سے ہر وقت درود نکل رہا ہے۔وہ دل جو ظلمت میں بھٹک رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے الہی تصرف سے ان دلوں میں اپنے نور کو بھر دیا۔ہر طرف الله نور السموات والارض کا جلوہ ہمیں نظر آئے۔ہر دل اللہ کے نور سے منور ہو اور ہر ذہن محمد رسول اللہ عمل اللہ کے احسان کے نیچے اپنی گردن جھکا رہا ہو اور آپ پر درود بھیج رہا ہو۔پس ہر وقت میرے دل میں یہ تڑپ ہے کہ اسلام کے لئے یہ انتہائی قربانیوں کا وقت ہے کیونکہ انتہائی فتوحات کا زمانہ ہمارے سامنے ہے وہ ہمیں نظر آرہا ہے۔فتوحات تو ہمارے سامنے نظر آ رہی ہیں۔لیکن ان فتوحات اور ہمارے درمیان ہماری کمزوریاں حائل ہیں۔اگر آج ہم اپنی کمزوریوں کو دور کر دیں۔اگر آج ہم اللہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتہائی فدائیت اور ایثار کا نمونہ دکھانے کے لئے تیار ہو جائیں۔اگر آج ہم چند لمحوں کی اس دنیوی زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ابدی حیات کے طالب بن کر اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینے لگ جائیں۔تو وہ دن دور نہیں جب ہم دیکھیں گے کہ ساری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور ہر گھر سے قرآن کریم کی تلاوت کی آواز آرہی ہے اور ہر زبان محمد رسول اللہ علے پر درود بھیج رہی ہے اور ہر دل اور ہر روح اور جسم کا ہر ذرہ اپنے رب کے حضور شکر کے سجدے بجالا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے کی توفیق عطا کرے۔اب میں رخصت چاہتا ہوں آپ ہمیشہ ہی اپنے رب کی امان اور اس کی حفاظت میں رہیں اور اس کے فضلوں کے وارث ہوتے رہیں۔(روز نامه الفضل ربوہ ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۶۹ء)