مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 586 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 586

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۲ء 586 سیدنا وامامنا حضرت اقدس خلیفه امسیح الثالث نے مورخہ ۶ ہجرت ۱۳۶۱ (۶مئی ۱۹۸۲ء) بعد نماز عصر ایوان محمود میں خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی سالانہ تربیتی کلاس سے جو اختتامی خطاب فرمایا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔(غیر مطبوعہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - قرآن کریم کی ضرورت یہ جو ہمارا زمانہ ہے جس میں میں اور تم زندگی گزار رہے ہو اس زمانہ میں قرآن کریم کی ضرورت کا احساس بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس لئے کہ انسان کی بے راہ روی اس زمانہ میں بہت زیادہ ہوگئی ہے۔بے راہ روی کا مطلب یہ ہے کہ سیدھے راستے کو چھوڑ کے ٹیڑھے راستے کو اختیار کیا بہتوں نے۔پیار کے راستے کو چھوڑ کے نفرت کے راستے کو اختیار کیا بہتوں نے امن کے راستہ کو چھوڑ کے جنگ اور فساد کی راہ کو اختیار کیا بہتوں نے۔اچھے عمدہ اور حسین اخلاق کی راہوں کو چھوڑ کے بدتہذیبی کی راہوں کو اختیار کیا بہتوں نے ایک گند مچ گیا۔ایک گند پیدا ہو گیا انسانی زندگی میں۔اور انسان کو یہ پتہ نہیں لگ رہا کہ اس گند کو وہ دور کیسے کرے؟ اور سوچنے والا دماغ اور سمجھنے والی روح بجھتی ہے کہ اس گند کو سوائے قرآنی تعلیم کے کسی اور طریقہ سے دور نہیں کیا جاسکتا۔آپ لوگ بچے میرے یہاں اس لئے جمع ہوئے کہ تربیتی کلاس میں تربیت حاصل کریں۔مختلف پہلوؤں سے خدام الاحمدیہ کے نظام نے آپ کی تربیت کا انتظام کیا۔لیکن بنیادی چیز ایک ہی تھی کہ آپ کو قرآن کریم کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کے طریقے بتائے جاسکیں۔کبھی نام لے کر ایسا کیا گیا ہو گا، کبھی بغیر نام لئے۔لیکن جن رستوں کی نشاندہی، جن رستوں کے متعلق آپ کو بتایا گیا وہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے راستے ہی تھے۔قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے۔جس زاویہ سے بھی دیکھیں اس کی عظمتیں انسانی ذہن سے بالا ہیں۔یک عظمت اس کی یہ ہے کہ چھوٹی سی یہ ہدایت ہے۔بڑی کتاب نہیں ہے قرآن کریم کی شریعت قرآن کریم کے الفاظ جو ہیں عربی کے جس میں قرآن کریم نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی وحی محمد ﷺ پر یہ بہت چھوٹی کتاب ہے اور اس ے اور سے ایک سہولت یہ پیدا کی گئی کہ امت مسلمہ میں ہر صدی میں لاکھوں ایسے بچے اور بڑے پیدا ہوئے جنہوں نے