مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 569
569 فرموده ۱۹۸۱ء د و مشعل راه جلد دوم قرآنی کی کافی نہیں پاکیزہ راہوں کو اختیار کرنا اور عاجزانہ بندھنوں میں خود کو باندھ کر فنا کا جبہ اوڑھ لینا یہ ضروری ہے۔قرآنی تعلیم کے متعلق آپ نے بہت کچھ سنا۔یہ جو تسخلقوا باخلاق اللہ ہے ( میں اخلاق کی اور پاکیزگی کی بات کر رہا ہوں) اس کے متعلق میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں۔قرآن ہماری جان ہے۔قرآنی تعلیم کو ہماری روح میں اسی طرح گردش کرنا چاہئے جس طرح ہمارے جسم میں ہمارا خون گردش کر رہا ہے۔اس کے بغیر ہم اچھے اخلاق تخلقوا باخلاق اللہ اور خلقه القرآن کے مطابق اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے۔روحانی صلاحیتوں کی نشو ونما چوتھا مطالبہ ہم سے یہ کیا گیا کہ روحانی صلاحیتوں کی نشو ونما کوکمال تک پہنچانا۔روحانی صلاحیتوں کی نشو ونما اپنے کمال کو تب پہنچتی ہے جب بندہ کا اپنے رب سے زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔بندہ ایک عاجز بندہ ہے اور ہمارا رب شہنشاہوں کا بھی شہنشاہ۔اس رفعت اس بلندی تک کوئی انسان پہنچ نہیں سکتا۔یہ اپنی جگہ درست۔لیکن اپنی مہربانی سے اس نے یہ انتظام کیا کہ اس کا یہ عاجز بندہ اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہر آن اس کے فضلوں کو حاصل کر سکتا اور ہر لحظہ رحمتیں اس پر نازل ہو سکتی ہیں اللہ تعالیٰ کی۔جب یہ زندہ تعلق پیدا ہو جائے تو ایک نئی زندگی ملتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اعلان کیا گیا نبی کریم ہے کے متعلق کہ محمد کی آواز پر لبیک کہو کہ وہ اس لئے تمہیں بلا رہا ہے کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔جو خدا میں فانی ہو جاتا ہے وہ نئی زندگی پاتا ہے اور اس نئی زندگی کی جو علامتیں قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہیں ان میں سے چند ایک میں بتا دیتا ہوں:۔صلى الله قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں محبت میں مست ہو کر فانی ہو جانے والے انسان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ فرشتے اس سے یا ان سے ہمکلام ہوتے ہیں۔تیسرے یہ کہ فرشتے ان کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔چوتھے یہ کہ فرشتوں کا ان کے پاس آنا بطور دوست کے ہوتا ہے۔بڑی مہربانی ہے خدا فرشتوں کو کہے کہ میں نے تمہیں ان کا دوست بنا دیا۔جس طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا تھا۔خدا تعالی کہتا ہے۔ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة الاتخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنة التي كنتم توعدون نحن اوليؤكم في الحيوة الدنيا و في الآخرة۔( حم السجده آیت: ۳۱-۳۲) اس دنیا میں ہم تمہارے دوست ہیں اور گونگے دوست نہیں ہیں وہ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا وہ ہمکلام ہوتے ہیں اور یہیں ہماری دوستی ختم نہیں ہوگی بلکہ مرنے کے بعد بھی ہم تمہارے دوست ہیں۔