مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 567
567 فرموده ۱۹۸۱ء کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے“۔د و مشعل راه جلد دوم دد (تجلیات الہیہ صفحہ ۷ ) ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جب تک ہم تمام مہذب قوموں کو یہ جو دنیا کی مہذب قومیں ہیں نا چاند تک پہنچ گئیں۔دوسرے ستاروں کی تصویریں یہاں لا رہی ہیں اور بڑا کچھ انہوں نے صفات باری کے جلووں میں سے علم حاصل کیا ) جب تک ہم علم کے میدان میں ان کو شکست نہیں دیتے ہم اسلام کو غالب نہیں کر سکتے۔اخلاقی استعدادوں کی نشو و نما اس واسطے ضروری ہے کہ ہر احمدی کا ذہن کامل نشو و نما حاصل کرے کیونکہ اتنی ذمہ داریاں ہیں ہم پر۔اب مثلاً ایک کروڑ ہے احمدی۔پتہ نہیں کتنی آبادی ہے۔تو دس دس ہیں ہیں سوسو مختلف دماغ تمہارے سامنے رکھے گئے۔ان کو پڑھاؤ سبق اسلام کے تمہیں مشکل پڑ جائے گی اگر ابھی سے اس کے لئے تیاری نہ کی۔اور تیسرا مطالبہ جو ہم سے یہ حالات کر رہے ہیں کہ اخلاقی استعدادوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچائیں۔اخلاقی استعدادوں کی نشو و نما کا اور ان کے کمال تک پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے اخلاق ہیں۔قرآن کریم میں اس کی صفات بیان ہوئی ہیں وہ ہماری زندگی میں ہمارے افعال اور اعمال میں پیدا ہو جائیں۔مثلاً خدا تعالیٰ رحم کرنے والا ہے۔عفو ہے اس کا۔جس طرح وہ عفو کرتا ہے ویسے بنو۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر میں ہر ایک کو اس کے گناہ کے نتیجے میں پکڑنا چاہوں تو دنیا کی آبادی ختم ہو جائے۔بڑا معاف کرتا ہے وہ اور یہ جو اس نے کہا کہ میرے خیال میں ایک ہزار میں سے نو سوننانوے ۹۹۹ ایسے گناہ ہوں گے ) میں اس دنیا میں تمہیں سزا نہیں دیتا۔جب دوسری دنیا میں جاؤ گے تو میری رحمت کے دو جلوے ظاہر ہوں گے۔انسانوں پر۔ان کی روحوں پر نئے جسم جو ان کو ملیں گے ان پر۔ایک یہ کہ جو جنت کے مستحق ہوں گے میری نگاہ میں وہ جنت میں بھیجے جائیں گے اور ہر شام ان کی اس دن کی صبح سے مختلف اور ہر صبح ان کی پہلی شام سے مختلف۔(چوبیس گھنٹے کا اگر دن ہم سمجھیں۔پستہ نہیں وہ کیا دن ہوگا اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن تمہیں سمجھانے کے لئے میں یہ اگر فرض کرلوں کہ وہ چوبیس گھنٹے کا دن ہے ) تو بارہ گھنٹے کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت ان کی زندگیوں میں ایک نہایت حسین اور پر لذت انقلاب عظیم بپا کر دے گی اور جن کو وہ اپنی رحمت کے نتیجہ میں یہاں سزا نہیں دیتا اور دوزخ میں وہ چلے گئے وہ ان کی اصلاح کا سامان کرتا ہے وہاں۔اس بات کو قرآن کریم نے کھول کے بیان کیا ہے مگر لوگ سمجھتے نہیں اور انسان جلدی تیار ہو جاتا ہے اس کو جہنم میں پہنچانے کے لئے۔میرا اور تیرا کام ہی نہیں ہے کسی کو جہنم میں پہنچا نا۔خدا نے کہا ہے کہ میں اس لئے سزا نہیں دیتا تا کہ ان کو مہلت ملے کہ وہ تو بہ اور استغفار کریں اور میں ان کو معاف کروں۔رحمت نہیں ہے یہ کافر کے متعلق یہ الفاظ بولے۔فاسق کے متعلق یہ الفاظ بولے۔فاجر کے متعلق یہ الفاظ بولے۔قرآن کریم میں منافق