مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 545
545 فرموده ۱۹۸۱ء د و مشعل راه جلد دوم دو ہر قسم کے سوال کریں آپ نے مختلف موضوعات پر سبق سیکھے۔آپ کو پڑھایا گیا۔کچھ آپ نے تقریریں سنیں۔کچھ واللہ اعلم آپ کو وقت ملنا چاہئے تھاملا یا نہیں، جس کی مرے ذہن میں اس وقت حاضر نہیں بات۔پروگرام تو آیا تھا میرے پاس کہ آپ کو وقت ملنا چاہیئے سوالات کرنے کا (اس موقع حضور نے محترم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ مکرم محمود احمد صاحب سے دریافت فرمایا کہ طلباء کو سوالات کا موقع دیا جاتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ موقع طلباء کو دیا جاتا ہے۔ناقل ) سوالات کے لئے ایک بات ضروری ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر قسم کا سوال کرو۔بہت سے بچے اور نو جوان شرماتے ہیں کہ پتہ نہیں غلط قسم کا سوال نہ ہو جائے۔ہر قسم کا سوال ہمیں فائدہ پہنچائے گا اور آپ کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔اس واسطے آئندہ یا درکھیں جو ادھر ادھر کی آپ نے اپنے متعلق ، جماعت احمدیہ کے متعلق ، اسلام کے متعلق، ہمارے محبوب اللہ کے متعلق ، محمد اللہ کے متعلق باتیں سنی ہوں وہ بیان کر دیا کریں یہاں آئے۔سوال کیا کریں کہ یہ لوگ اس طرح کہتے ہیں یا ہمارے دماغ میں یہ الجھن ہے اس کو دور کریں۔اسی سفر کے دوران ایک اچھے پڑھے لکھے مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔وہ باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ یہ کیا کہ ایک شخص کو آپ نے کہدیا کہ وہ نوع انسانی میں سب سے بڑا ہے یعنی محمد۔تو ایسے مسلمان بھی ہیں۔تو مجھے غصہ نہیں آیا رحم آیا۔انہوں نے یہ فقرہ کہا اس وقت تھا جب مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا تھا اور ہمیں آپس میں باتیں کرتے ہوئے قریباً چالیس منٹ گزر چکے تھے۔میں نے کہا میں بڑا خوش ہوں کہ آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا۔اس لئے بھی خوش ہوں کہ میں تو جود ہر یہ اور عیسائی ہیں ان کو بھی یہ سمجھا دیتا ہوں، دیتا رہا ہوں اپنے دوروں میں کہ واقعہ میں وہ محمد و نوع انسانی میں سب سے بڑے انسان ہیں۔تم تو ایک مسلمان کے بچے ہو۔تمہیں آسانی سے سمجھا دوں گا۔لیکن اس وقت میرے پاس وقت نہیں۔ایک دفعہ پھر ملیں گے۔ایک غیر مسلم کا کتاب لکھنا جس میں آنحضرت مہ کو پہلے نمبر پر لکھا تو اس قسم کی باتیں مسلمان کہلانے والے بھی کرتے ہیں۔آپ کے دماغ میں یہ چیزیں نہیں رہنی چاہئیں۔یہ عجیب بات ہے کہ جو غیر مسلم دماغ ہے آج کی دنیا میں ان میں سے بہت سے ذمین دماغ اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ایک شخص نے نوع انسانی کے یہ جو ابتک گزر چکے ہیں اس نے تو یہی بنانا تھا ایک سوسب سے بڑے آدمی کے اوپر ایک کتاب لکھی ہے موٹی سی اور نمبر ایک محمد ﷺ۔اور پھر وہ لمبا سا مضمون ہے۔لکھنے والا عیسائی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ میں نے بڑا غور کیا اور وہ تمام باتیں جو ایک بڑے انسان میں پائی جانی چاہیئیں اور وہ اس نے بیان کی ہیں (لمبا مضمون ہے ) وہ میں نے سب سے زیادہ ان صفات کا مالک محمد ﷺ کو پایا ہے ، اس کے اوپر عیسائیوں نے بڑے اعتراض بھی کئے ہیں۔یہ تم نے کیا کر دیا مسیح کو رکھنا تھا نمبر ایک۔اس نے کہا، میں نے جس کو نمبر ایک دیکھا