مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 49

49 فرمودہ ۱۹۶۷ء دو مشعل راه جلد دوم کرده تحر یک وقف جدید کے چندہ کے طور پر پیش کر دے گا کیونکہ حضور اقدس اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس عظیم الشان تحریک کی مالی مضبوطی کا کام اپنے بچوں کے سپرد کیا ہے۔پس عزیز کے منشاء کے مطابق میں پچاس روپے کا چیک حضور پر نور کو بھجوار ہا ہوں“۔اور عزیز فرید احمد اپنے خط میں لکھتا ہے :- "Waleed, Amatul-Naseer and I were promised by our father gifts of sh 50/- each for memorising the Qasida, first to have recieved this gift۔and I am Al-Hamdulillah!!! On my part, I have undertaken to present the whole of this amount to your Holiness for purpose of Waqf-e- because you have kindly made the children of Jadid Ahmadiyyat responsible for the finance of the Waqf-e-Jadid, and I fully realize that your needs for the spreading of Islam must have priority over my personal needs۔Please, threrfore, accept the enclosed cheque for Rs۔50/- and grant me the opportunity of earning Sawab۔I may assure your holiness that your children, though young, are as willing to serve Islam as the grown ups"۔تربیت کا مقصد کیا ہے یہ اس بچے کا خط ہے۔تو اس قسم کی نہایت حسین مثالیں بھی ہیں جو ہمارے بچوں میں پائی جاتی ہیں لیکن بچے کا ذہن اس قسم کے خیالات کا اظہار صرف اس وقت کر سکتا ہے جب وہ یہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایسی باتیں ہورہی ہیں۔اگر اس کے ماں باپ کو اسلام کی ضرورت کا خیال ہی نہ ہو۔اگر اس کے ماں باپ اسلام کی ضرورتوں کے متعلق اپنے گھر میں باتیں ہی نہ کرتے ہوں۔اگر اس کے ماں باپ اس کا تذکرہ گھر میں نہ کرتے ہوں کہ ہمیں اپنی ضرورتیں چھوڑ دینی چاہئیں اور آج اسلام کی ضرورت کو مقدم رکھنا چاہئے۔اگر یہ نہ ہو گھر کا ماحول تو گھر کے بچوں کی تربیت ایسی ہو ہی نہیں سکتی۔جیسا کہ آپ نے ابھی سنا کہ کس قسم کی تربیت اس بچے کی ہے۔چھوٹا بچہ ہے اور وہ اس قسم کا خط نہیں لکھ سکتا۔دلی جذبات سے جب تک ایک پاک ماحول میں اس کی تربیت