مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 48

د و مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 48 ہمارے بڑوں پر ہی نہیں ہم پر بھی قربانیوں کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور وہ قربانیاں دیتے ہیں۔افریقہ کے ایک بچے کی مثال میں اسی وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔افریقہ میں ہمارے ایک احمدی بھائی ہیں۔لیق احمدان کا نام ہے۔بڑے مخلص دُعا گو ہیں اور ہر وقت ان کو یہ احساس رہتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کر رہا ہے۔ہمیں اپنی راہ میں قربانیاں دینے کی تو فیق عطا کرتا ہے۔ہمارے بچے بھی اس کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کی راہ میں قربانیاں دیں۔چند دن ہوئے انہوں نے مجھے خط لکھا جو کل ہی مجھے ملا ہے۔انہوں نے اپنے بچوں سے کہا ( ایک بچہ بہت چھوٹا ہے ) بڑے بچے جو ہیں ان کو انہوں نے کہا کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ قصیدہ تم حفظ کرلو ( جو نعتیہ قصیدہ ہے یا عین فیض الله و العرفان يسعى اليك الخلق کا لظمان ) میں تمہیں پچاس شلنگ انعام دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص اس قصیدہ کو زبانی یاد کرے اور دوہرا تا رہے اللہ تعالیٰ اس کا حافظہ تیز کر دیتا ہے۔تو بچوں کو یہ قصیدہ حفظ کروانے میں ان کا دنیوی فائدہ بھی ہے کیونکہ بچپن کی عمر حافظہ سے فائدہ اٹھانے کی عمر ہے۔جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر ذہن سے فائدہ اُٹھانے کی عمر میں وہ داخل ہو جاتے ہیں۔بہر حال انہوں نے اپنے بچوں کو ۵۰ شلنگ انعام کا وعدہ دے کر انہیں اس طرف متوجہ کیا اور شوق ان میں پیدا کیا اور انہوں نے یاد کرنا شروع کر دیا۔بڑے بچے نے سارا قصیدہ حفظ کر لیا تو انہوں نے اسے، ۵ روپے انعام دیا۔وہ لکھتے ہیں کہ میری اور میری بیوی کی یہ خواہش تھی کہ ہم اسے ترغیب دیں کہ جب اسے یہ انعام ملے تو اس کا ایک حصہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے اور ایک حصہ وہ اپنے بھائیوں کو دے تا کہ وہ اس کی خوشی میں شریک ہوں اور ایک حصہ وہ اپنے پر خرچ کرے۔چنانچہ ان کے والد صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں:۔یہ قصیدہ حفظ کرنے کے دوران میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی فضل و کرم سے عزیز کو خوابوں میں سید الانبیاء حضرت رسول کریم ﷺ ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضور پُر نو راید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت کا شرف بخشا۔(الحمدلله ثم الحمدللہ)۔پھر وہ لکھتے ہیں۔عزیز فرید احمدکی امی کا اور میرا خیال تھا کہ انعام دینے سے قبل بچے کو تربیت کے طور پر کسی رنگ میں کبھی ترغیب دلائیں گے کہ اس رقم میں سے کچھ چندہ دے دے اور کچھ حصہ اپنے بھائیوں اور بہن کو دے اور بقیہ رقم اپنے استعمال میں لے آئے لیکن قصیدہ حفظ کرنے سے پہلے ہی ایک دفعہ عزیز نے ہماری تحریک کے بغیر خود اپنا عندیہ یہ ظاہر کر دیا کہ وہ انعام کی ساری رقم حضور انور کی خدمت اقدس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جاری