مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 47

47 فرمودہ ۱۹۶۷ء دومشعل راه جلد دوم ۲۹ ستمبر ۱۹۶۷ء کومری میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے وقف جدید کے موضوع پر بعض نصائح فرمائیں جو درج ذیل ہیں۔دونسلوں کی نازک ذمہ داری میں نے بڑا غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم پر جو دوسری نسل احمدیت کی اس وقت ہے اور ہماری اگلی نسل پر جو اس وقت بچے ہیں۔ان دو نسلوں پر قربانیاں دینے کی انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کیونکہ ہم ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں۔جس میں ترقی اسلام کے لئے جو مہم جاری کی گئی ہے۔وہ اپنے انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہمیں اور آنے والی نسل کو انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی۔تب ہمیں اللہ تعالیٰ وہ عظیم فتوحات عطا کرے گا۔جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں بھی اس احساس کو زندہ کریں اور زندہ رکھیں کہ عظیم فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کھول رکھے ہیں۔اور ان دروازوں میں داخل ہونے کے لئے عظیم قربانیاں انہیں دینی پڑیں گی۔اور ان سے ہم ایسے کام کرواتے رہیں۔کہ ان کو ہر آن اور ہر وقت یہ احساس رہے کہ غلبہ اسلام کی جو مہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے۔اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ہم نے بھی کچھ کنٹری بیوٹ کیا ہے۔ہم نے بھی اس کے لئے کچھ قربانیاں دی ہیں۔ہمارے بچے وقف جدید کا بوجھ اٹھا ئیں ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ویسے ہی امیدوار ہیں جیسا کہ ہمارے بڑے ہیں۔اس کے لئے میں نے علاوہ اور تدابیر کے جو ذہن میں آتی رہیں یا جو پہلے سے ہماری جماعت میں جاری ہیں یہ تحریک کی تھی کہ ہمارے بچے وقف جدید کا مالی بوجھ اٹھائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے سارے بچے اور وہ ماں باپ جن کا ان بچوں سے تعلق ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس بات کو اچھی طرح جانے لگیں کہ جب تک بچے کو عملی تربیت نہیں دی جائے گی۔اللہ تعالیٰ کی فوج کا وہ سپاہی نہیں بن سکے گا۔اگر وہ دین کے لئے ابھی سے ان سے قربانیاں لیں تو یہ نسل اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح تربیت یافتہ ہوگی۔اور جب ان کے کندھوں پر جماعت کے کاموں کا بوجھ پڑے گا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو بنانے کے لئے کوشاں رہیں گے۔میرے دل میں یہ احساس ہے کہ جماعت نے بحیثیت مجموعی اس کی طرف وہ توجہ نہیں دی جو اس کو دینی چاہئے۔بڑے نیک نمونے بھی ہیں ہماری جماعت میں۔ایسے بچے جن کو تحریک نہیں کی گئی اور پھر بھی ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ