مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 472 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 472

شعل راه جلد دوم دومشعل فرموده ۱۹۷۸ء 472 ہے لیکن جو شخص صرف اسلام کی خاطر بدی کا مقابلہ بدی سے نہیں کرتا اور فساد پیدا نہیں کرنا چاہتا اور جان دے دیتا ہے اس کی تو شان ہی کچھ اور ہے۔نوے سالہ زندگی میں دوا یک انفرادی مثالیں ایسی ہیں کہ جو غلط فہمی سے جہالت سے یا نوجوانی کی حماقت سے سٹرائیک میں شامل ہو گئے مگر جماعت نے اسے برداشت نہیں کیا۔اس واسطے ہماری سختی تو بالکل پاک ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ جماعت نے کبھی فساد کیا ہو اور ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم ہر موقع پر فساد سے بچے ہیں۔بلکہ ہم نے اس حد تک قربانی کی کہ ۱۹۵۳ء میں باہر سے آئے ہوئے بچوں نے کالج پر پتھراؤ کیا۔اس وقت کالج لاہور میں تھا۔ہم حیران ہوئے کہ اندر سے بھی پتھراؤ ہوا۔ہم نے کہا یہ کیا بات ہوگئی ہمارا احمدی بچہ تو پتھر کے مقابلہ میں پتھر نہیں چلاتا۔چنانچہ پتہ یہ گا کہ غیر احمدی بچے جو کالج میں پڑھتے تھے اور ہوٹل میں بھی رہتے تھے ان کے ساتھ اتنا حسن سلوک تھا کہ جب ان کو غصہ آیا تو وہ ضبط نہیں کر سکے اور انہوں نے پتھراؤ کے مقابلہ میں پتھراؤ کر دیا۔لوگوں کو اس کا پتہ لگ گیا اور منیر انکوائری میں ایک صاحب کی طرف سے جو بہت بڑے افسر تھے یہ واقعہ پیش ہو گیا۔سارا کچھ ہونے کے بعد یہ ایک واقعہ کہ تعلیم الاسلام کالج کے اندر سے بھی تو پتھر کے مقابلے میں پتھر آ گیا تھا۔جب انہوں نے یہ کہا تو سپر نٹنڈنٹ صاحب دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے کہ آپ کو واقعہ تو یہ ہوا تھا۔میں نے کہا مجھے پتہ ہے۔کہنے لگے کہ پھر یہ پیش کر دینا چاہئے کہ پتھراؤ کرنے والے احمدی نہیں تھے۔میں نے کہا کہ نہیں۔میں یہ پیش نہیں کروں گا۔اس واسطے کہ جنہوں نے ہمارے پیار میں پتھر کا جواب پتھر سے دیا تھا ہم ان پر بھی حرف نہیں آنے دیں گے اور خود وہ الزام سہہ لیں گے۔پس نوے سالہ زندگی میں جماعت احمدیہ نے کبھی سٹرائیک کی نہ فساد کیا نہ کوئی احتجاجی کالا بلایا کالا بیج لگایا اور نہ کوئی احتجاج کیا۔ہمارا احتجاج تو ایک ہی در پر ہے اور وہ ہمارے خدا کا در ہے۔دوسری چیز جو میں مختصراً کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام نے بیچ بولنے پر اور جھوٹ سے اجتناب کرنے پر بڑا زور دیا ہے۔جھوٹ بعض دفعہ تمام برائیوں کی جڑ بن جاتا ہے۔ایک گناہ کیا اور غلطی کی اور پھر اس کو چھپانے کے لئے ایک جھوٹ اور پھر اس جھوٹ کو چھپانے کے لئے ایک اور جھوٹ اور اس طرح ایک لمبا سلسلہ شرور ہوجاتا ہے۔اس واسطے مسلمان کی زندگی میں جوشان ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ غلطی کرتا ہے تو استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔استغفار اور تو بہ جھوٹ کے مقابلے میں ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ خود خدا کو کہتا ہے کہ اے خدا میں غلطی کر بیٹھا ہوں تو مجھے معاف کر دے۔وہ اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے اسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتا اور اس ہستی کے سامنے اقرار کرتا ہے جسے سب قدرت ہے اور اگر وہ سزادینا چاہے تو اس پر قادر ہے۔وہ علام الغیوب ہے اس سے کچھ چھپایا نہیں جاسکتا لیکن خود اس کے سامنے جا کر یہ مان لینا کہ رب انی ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی میں اعتراف گناہ کرتا ہوں فاغفر لي ذنوبی پس تو میرے گناہ بخش دے۔