مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 43

43 فرمودہ ۱۹۶۷ء اور بھی کئی رسمیں اسلام میں داخل ہو گئی ہیں۔اسلام سادہ زندگی کا مذہب ہے د و مشعل راه جلد دوم دد اسلام سادہ زندگی کا مذہب ہے اور ہر رسم تکلف پر مبنی ہے اسلام نے سادہ زندگی کو پیش کیا ہے۔اس نے کوئی بد رسم قائم نہیں کی ایک حقیقی مسلمان سادہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے اور بدر میں اس کی زندگی میں راہ نہیں پاتیں لیکن جب مسلمان قرآن کریم کو بھول گئے تو ان میں کئی بدر سوم رائج ہوگئیں۔ہم میں سے اکثر کو پتہ ہی نہیں کہ وہ رسمیں کیا کیا ہیں۔میں نے ان رسوم کو اکٹھا کر دیا ہے جو مسلمان اس زمانہ میں کر رہے ہیں اور وہ بڑی عجیب معلوم ہوتی ہیں۔اگر تمہیں اسلام کا صحیح علم نہ ہو تو تم شیطان کے حملہ سے بچ نہیں سکتے اور نہ جماعت کو بچا سکتے ہو شیطان مختلف محاذوں سے اسلام پر حملہ آور ہوتا ہے اور آئندہ بھی وہ مختلف محاذوں سے حملہ آور ہوگا اور ہم نے ہر محاذ پر شیطان کو شکست دینی ہے اور ہم شیطان کو ہر محاذ پر اس صورت میں شکست دے سکتے ہیں جب ہمیں قرآن کریم کا صحیح علم حاصل ہو اور اس زمانہ میں قرآن کریم کا صحیح علم صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب قرآن کریم کی تفسیر ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری کتب اور آپ کی ساری تقاریر اور سارے ملفوظات قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور وہی ایک ایسی تفسیر ہے جو زمانہ حاضر کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے۔آپ کے بعد جو غیر لکھی گئی ہے یا جو تفسیر تقاریر میں بیان کی گئی ہے اس کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر پر ہی ہے۔قرآن کریم کے علوم کا میدان بند نہیں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بنیاد رکھ دی ہے اور آئندہ جو عمارت بھی کھڑی ہوگی وہ اس بنیاد پر کھڑی ہوگی لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی نسل میں بعض ایسے افراد بھی پیدا ہو گئے ہیں جو تفسیر کرنے میں احتیاط نہیں کرتے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کے خلاف تو نہیں ہے۔قرآن کریم کے علوم غیر محدود ہیں اس لئے اس کی نئی سے نئی تفسیر ہوتی چلی جائے گی لیکن قیامت تک اس کی کوئی ایسی تفسیر نہیں لکھی جاسکتی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کے متضاد اور مخالف ہو مثلاً ایک خیال امت مسلمہ میں یہ پیدا ہو چکا ہے کہ اس میں بعض ایسے بزرگ اور مقدس وجود بھی پیدا ہوئے ہیں جو انسان کو ایک نظر سے ولی بنا دیتے ہیں حالانکہ یہ تصور نہایت ہی بیہودہ اور لغو ہے اسلام تو اسے دھکے دے دے کر باہر نکال رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے پر خچے اڑا دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کی تردید فرماتے ہوئے ایک دلیل یہ بھی دی ہے کہ سب سے زیادہ قوت قدسیہ نبی اکرم ﷺ کو حاصل تھی۔جب آپ کی ایک نظر نے کسی پر اللہ تعالیٰ کے قرب کی جنتیں نہیں کھولیں بلکہ آپ کے صحابہ کو انتہائی قربانیاں دینی پڑیں