مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 419
419 فرموده ۱۹۷۴ء دو مشعل راه جلد دوم کی بات کر رہے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے روحانی فوجوں کے سالار اعظم بنا دیئے گئے ہیں یعنی آپ کو خاتم النبیین کا لقب عطا ہوا ہے۔اور آپ کے ماتحت جن سالاروں نے پیدا ہونا تھا ان کی تعداد تین، چار، دس یا دس سو نہیں بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ جب تنزل کے آثار تھے۔اس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ میں لاکھوں لاکھ مقربین الہی پیدا ہوئے اور مقرب الہی ہی روحانی فوج کا سالار ہوتا ہے اور اس وقت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہو گئے۔مسیح دنیا کی طرف آگئے۔اس عظیم جنگ کا معرکہ۔جنگ تو شروع ہوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ لیکن۔اس جنگ کا آخری معرکہ جس کی شدت انسانی عقل اپنے تصور میں نہیں لاسکتی وہ زمانہ آگیا مہدی آگئے اور اسلام کے اندر شیطان سے جو آخری معرکہ ہونا تھا اس کا زمانہ آ گیا۔اسی لئے ہمارے چودہ سو سالہ عرصہ میں جو کتب مسلمان علماء اور اولیا ء اور خدا کے برگزیدہ اور مقربین نے لکھی ہیں اللہ تعالیٰ نے اتنا عظیم مقام ان کو مہدی کا بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خود انہیں علم دیا تھا کہ اس کا مقام اور شان کیا ہوگی اتنا عظیم مقام اور شان بتائی ہے کہ ہم حیران ہوتے ہیں جب ان کتب کو پڑھتے ہیں کہ ان بزرگوں کی طرف منسوب ہونے والوں نے مہدی کا زمانہ تو پایا مگر اسے شناخت نہیں کیا اور ان کے جو ہادی اور رہنما تھے جن کی طرف یہ منسوب ہوتے ہیں انہوں نے مہدی کا زمانہ تو نہیں پایا مگر اسے شان اور مقام کے لحاظ سے شناخت کیا اور اس کی عظمت اور شان کے متعلق اپنی کتب میں لکھا۔یہ جنگ شروع ہو چکی ہے اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں اس جنگ میں اس آخری معرکہ میں جو معرکہ مہدی موعود نے اسلام کی خاطر اور تو حید کو قائم کرنے کیلئے اور نوع انسانی کے دل جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دینے کیلئے لڑنا تھا اس معرکہ میں بھی یہ وقت جس میں ہم اس جلسہ سالانہ کے بعد داخل ہو گئے ہیں یہ بڑی ہی اہمیت کا مالک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو میں دیکھ رہا ہوں اور جو میرے کان آسمانی آواز سن رہے ہیں اور جو میری قوت شامہ خوشبو سونگھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ جو اس صدی کے یعنی جماعت احمدیہ کی زندگی کی پہلی صدی کے یہ آخری پندرہ سال ہیں اس صدی کے یہ پندرہ سال اس لحاظ سے سب سے اہم ہیں کہ اس صدی میں اس سے قبل وہ تیاری جو دوسری صدی کیلئے ہمیں پہلی صدی میں کرنی تھی اتنی شدت اور اتنی وسعت کے ساتھ اور اتنے بڑے پیمانہ پر بھی نہیں کی جو ان پندرہ سال کے اندر ہم نے کرنی ہے اور پھر اس کے بعد ہماری زندگی کی اس--- معرکہ کی زندگی کی یہ معرکہ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اور جیسا کہ قرآن کریم میں اشارے پائے جاتے ہیں قریباً دوصدیوں اور کچھ سالوں تک پھیلا ہوا ہے ) جو چیز میں دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ پہلی صدی تیاری کی تھی چنانچہ ہم مثلاً پچاس ملکوں میں چلے گئے۔اب ان اگلے پندرہ سال میں ہم امید کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں ہم چلے جائیں گے۔ہم پچاس ایسے ملکوں میں چلے گئے جہاں کے چندے بھی ہمارے رجسٹروں پر آتے ہیں اور دنیا کا بہت بڑا حصہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عظیم جہاد کے احاطہ میں اور دائرہ کے اندر لے لیا ہے لیکن کچھ ملک ابھی ایسے ہیں جہاں اکا دُکا احمدی ہو گا لیکن وہاں جماعتیں نہیں ہیں۔نہ جماعت فی الحال بن سکتی