مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 417

417 فرموده ۱۹۷۴ء دومشعل راه جلد دوم پڑھ چکے ہوں گے یا آپ کے علم میں لایا جانا چاہئے تھا ( کیونکہ جماعت پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں جماعت کے بڑے چھوٹے مردو زن کو اس کا علم ہونا چاہئے ) میری طرف سے اڑھائی کروڑ روپے کا اعلان ہوا تھا۔اور پھر جوں جوں حالات واضح ہوتے گئے اور میں نے جماعت میں جذبہ دیکھا۔میں نے اپنے اندازے لگائے۔دعاؤں کے بعد اس وقت جلسہ سالانہ پر بھی میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر چہ اڑھائی کروڑ روپے کی میں اپیل کرتا ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ یہ رقم پانچ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔یہ دسمبر ۱۹۷۳ء میں میرا اندازہ تھا لیکن دسمبر ۱۹۷۳ء کے بعد اپریل تک چار مہینے گزرے ہیں۔اس عرصہ میں جوں جوں حالات سامنے آتے رہے اور دعاؤں کی توفیق بھی ملتی رہی ، خواہش بھی بڑھتی گئی اور جماعت کا جذبہ بھی بڑھتا گیا۔مشاورت کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے ایک خوشخبری دی تھی اور اسی کی تائید میں جماعت کو اللہ تعالیٰ نے رویا صالحہ کے ذریعہ خوشخبریاں دیں۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے اور مشاورت پر میں نے اعلان کیا کہ غالباً 9 کروڑ 53 لاکھ کے وعدے آچکے ہیں اور اب اس سے بڑھ گئے ہیں۔جس کا اعلان میں کل انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ میں کروں گا۔بہر حال 9 کروڑ سے اوپر وعدے مشاورت کے موقعہ پر پہنچ گئے تھے۔اتنے تھوڑے عرصہ میں یعنی تین سال کے اندر بیس گنا زیادہ ترقی کر جانا اور پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دینا خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔آپ یہاں کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔اگر کھیلوں کی زبان میں بات کریں تو کوئی پانچ فی صد سے کوئی دو فیصد سے کوئی ایک فیصد سے اور کوئی اعشاریہ کچھ فیصد کے فرق سے ریکارڈ توڑا کرتا ہے۔لیکن جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں گنا یعنی دو ہزار فیصد یعنی سو کے مقابلہ میں دو ہزار کی نسبت سے اپنے طوعی اور رضا کارانہ جذبہ اور ایثار کا مظاہرہ کیا اور ۵۳ لاکھ سے بڑھ کر مشاورت پر یہ رقم ساڑھے نو کروڑ تھی جو اب بڑھ چکی ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ جو بوجھ اٹھانے کی توفیق عطا کرتا ہے وہ ہمیں بتارہا ہوتا ہے کہ کس نسبت سے بوجھ ہم پر زیادہ ڈالا گیا ہے۔جہاں یہ حقیقت ہے کہ نصرت جہاں منصوبہ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو محض اپنے فضل سے نہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں ) سو کے مقابلہ میں دو ہزار یعنی ۲۰ سو فیصد زیادہ قربانیوں کی توفیق دی تو اس اصول کے مطابق جو میں نے ابھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ جتنا بوجھ ڈالتا ہے اس کے مطابق توفیق اور طاقت بھی عطا کرتا ہے۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جو قربانیاں ہم نے دی ہیں اور جو بوجھ ہم پر ڈالا گیا ہے جس کے نتیجہ میں عام مالی قربانی کے علاوہ ہم نے قربانی دینی اور ایثار کا اظہار کرنا ہے اور جو ہم نے جدوجہد کرنی ہے وہ ۷۰ء کے مقابلہ میں اس زمانہ میں جس میں ہم داخل ہو چکے ہیں ہیں گنا زیادہ ہے یعنی اس میں ۲۰ سو فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔عمر کے لحاظ سے اس کا اثر ہماری جماعت پر دو قسم کا پڑتا ہے۔ایک وہ لوگ ہیں جو بلوغت کو پہنچنے کے بعد جماعت احمدیہ کے ایک عظیم انقلابی جہاد میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کو پہلے سے ہیں گنا زیادہ قربانی کے ساتھ اور جذبہ کے ساتھ اور عزم کے ساتھ اس جہاد میں حصہ لینا پڑے گا۔یہ آثار ہیں کیونکہ اتنی طاقت ہمیں مل گئی۔جہاں