مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 410

410 فرموده ۱۹۷۳ء د مشعل راه جلد دوم Prolodariat of the world unit یعنی دنیا کے غریب اور مظلوم لوگو! اکٹھے ہو جاؤ۔تمہاری بھلائی کے لئے ایک انقلاب آ گیا ہے مگر آج حالت یہ ہے کہ روس کا نام سن کر دنیا کے غرباء کے ساٹھ فیصد سے زیادہ حصے کی جان نکلتی ہے۔غریب اور مظلوم انسان جس کا استحصال کیا گیا تھا اس کے اتنے بڑے حصے کے دلوں میں اس حد تک خوف اور دہشت اور ہر اس پیدا ہو چکا ہے کہ روس کا نام لیں تو کانپنے لگ جاتے ہیں۔غرض ساٹھ فیصد سے زائد غریب اور مظلوم انسانوں کے دل میں اس کیفیت کا پیدا ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اشتراکیوں کا یہ نعرہ کہ دنیا کے غریب اور مظلوم اکٹھے ہو جائیں نا کام ہو چکا ہے۔پس ہم سے کارل مارکس اور اینجلز، لین اور سٹالن کی باتیں مت کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر جو شریعت نازل فرمائی ہے اس میں انسان کی بہبود کے متعلق جو کچھ بتایا گیا ہے۔وہاں تک مارکس اور لینن کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔پچھلے الیکشن کے دنوں میں مجھے پتہ لگا کہ پیپلز پارٹی کے ایک صاحب ہیں جو Left (لیفٹ یعنی کمیونزم) کی طرف جھکے ہوئے ہیں ان سے میں نے کہا۔غریب آدمی نے آپ کا کیا قصور کیا ہے کہ آپ اس کے اتنے خلاف ہو گئے ہیں۔میں نے کہا روسی اشتراکی نظام کے نتیجہ میں تم اسے اٹھنی دینا چاہتے ہو مگر اسلام کہتا ہے کہ اس کا روپے کا حق ہے۔روسی اشتراکیت کے نتیجہ میں تم اس کی جو اٹھنی مارنا چاہتے ہو ظاہر ہے اس نے تمہارا کوئی قصور کیا ہو گا۔تب ہی تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کی اٹھنی سے محروم کر دیا جائے۔پس روسی اشتراکیت کا ہمارے سامنے ذکر نہ کرو۔کیونکہ جس تعلیم نے، جس ہدایت نے معاشرہ کے جن اصولوں نے ہمارے دلوں کو موہ لیا اور اپنا گرویدہ بنالیا ہے، اشتراکیت تو اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔باقی رہا چین کا سوشلسٹ نظام تو وہ ابھی جوانی کی حدود میں داخل ہورہا ہے۔اگر اس کو ارتقائی دور صحیح مل گئے اگر وہ ان چاروں قوتوں اور استعدادوں کی جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دی ہیں، صحیح نشو و نما کر سکا یعنی مادی، ذہنی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ ساتھ اس نے روحانی ترقی بھی کر لی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔پس اگر اس نے روحانی ترقی بھی کر لی تو وہ کامیاب ہو جائے گا اور اگر اس نے روحانی طور پر ترقی نہ کی تو وہ بھی مفلوج ہے۔آخر مفلوج بھی تو کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مفلوج وہ ہے جس کے دنوں ہاتھ اور دونوں پاؤں مارے ہوئے ہیں ایک مفلوج وہ ہے جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مارا ہوا ہے۔اور ایک وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں اور ایک ہاتھ سلامت ہے صرف ایک ہاتھ مارا ہوا ہے، مفلوج تو وہ بھی ہے۔غرض سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب چار فطری صلاحیتیں انسان میں ودیعت کی گئی ہیں، جب ان چار فطری صلاحیتوں کے وجود کی ایسی دلیلیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہم پیش کرتے ہیں اور ہر شخص کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں اور پھر جب اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان کو خدا کے قرب اور اس محبت کو پانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر لاکھ سے او پر انبیاءعلیھم السلام کی گواہیاں موجود ہیں