مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 409

دومشعل نعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۳ء پھر بیرونی محاذ ہی ختم ہو جائیگا۔گویا یہ حدیث اسلام کے آخری غلبہ کیطرف بھی اشارہ کرتی ہے۔اسلام کی حسین تعلیم اور اشتراکیت کی ناکامی 409 جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آج شیطان اپنے سارے مکائد کیساتھ میدان میں آ گیا ہے اور اسلام کے خلاف ہر جگہ رخنے ڈال رہا ہے۔چنانچہ میں تو اپنوں سے بھی، پاکستانی بھائیوں سے بھی اور دنیا کے سارے انسانوں سے بھی یہ کہوں گا کہ تم ہمارے سامنے سرمایہ داری کی باتیں نہ کرو کیونکہ جسمانی قوتوں کی نشوونما کے بعد بھی سرمایہ داری جو کچھ سوچ سکی اس سے کہیں زیادہ حسین اور کہیں زیادہ اچھی اور کامیاب ہونے والی تعلیم تو اسلام نے ہمیں دی ہے۔اسی طرح ہمارے سامنے روسی اشتراکیت کی بات نہ کرو کیونکہ روی اشتراکیت سے کہیں زیادہ حسین اسلامی تعلیم ہے جس کے سامنے اشتراکیت ٹھہر نہیں سکتی۔میں نے یورپ میں لوگوں سے باتیں کیں مگر کسی ایک شخص نے مجھے یہ نہیں کہا کہ آپ کی دلیل مجھے قائل نہیں کر رہی۔میں نے انہیں بتایا کہ سرمایہ دارانہ انقلاب کے بعد روس کا اشترا کی انقلاب آیا اور انہوں نے دو نعرے لگائے جو بظاہر بڑے اچھے تھے یہ ہم تسلیم کرتے ہیں اس لئے کہ ہمیں خدا نے کہا ہے ہمیشہ انصاف پر قائم رہو۔اس لئے ہم مانتے ہیں کہ جب انہوں نے کہا:- To each according to his needs۔کہ ہر ایک کو اس کی ضرورتوں کے مطابق دیا جائے گا تو ہم نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔شاباش تم بڑے اچھے ہو اور پھر انہوں نے کہا : - Proledariat unit of the world کہ دنیا کے سارے غریب عوام اکٹھے ہو جائیں ان کی بھلائی کے لئے انقلاب برپا کیا گیا ہے۔تو ہم نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔دنیا کے سارے غریبوں کو اپنی بھلائی کے لئے اکٹھے ہو جانا چاہیئے۔لیکن جو ہمیں عملاً نظر آیا وہ یہ تھا کہ کہا تو یہ تھا کہ:- To each according to his needs یعنی ہر ایک کو اس کی ضرورتوں کے مطابق دیا جائے گا لیکن اشتراکیت کے کسی بھی بڑے آدمی نے یہ نہیں لکھا کہ انسان کی ضرورت ہے کیا ؟ یعنی ضرورت کی تعریف ہی نہیں کی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چیکوسلوا یکین کمیونسٹ کی ضرورتیں اور سمجھ لی گئیں اور سفید روس کی ضرورتیں اور سمجھ لی گئیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی روس جہاں تاشقند وغیرہ ہمارے مسلمانوں کے علاقے ہیں ان کی ضرورتیں اور سمجھ لی گئیں اور ماسکو میں رہنے والے سفید فام روسی اشترا کیوں کی ضرورتیں اور سمجھ لی گئیں۔گویا کسی کو زیادہ دے دیا اور کسی کو کم دے دیا کیونکہ ضرورت کی تعریف ہی کوئی نہیں کی گئی تھی۔پھر روسی اشتراکیوں نے کہا تھا:-