مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 399
فرموده ۱۹۷۳ء 399 د دمشعل قل راه جلد دوم تھیں اس لئے ضلع رحیم یار خان سے مجالس کی کم نمائندگی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔بہر حال ۱۸ میں سے ۶ مجالس کی نمائندگی غیر معمولی کمی ظاہر کر رہی ہے۔اس کا بظاہر سیلاب ہی کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔اسی طرح بہاولپور کے بعض علاقے ہیں، ڈیرہ غازی خان کے بعض علاقے ہیں جہاں سیلاب کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔لیکن ساہیوال کی ۲۷ مجالس میں سے ۱۸ مجالس کی شمولیت اور اسی طرح شیخو پورہ کی ۵۶ مجالس میں سے ۳۹ کی شمولیت خاصی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔گو ضلع شیخو پورہ کے متعلق تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں بھی ۱۲/۱۰ جماعتیں سیلاب سے متاثر ہوئیں۔اس لئے نمائندگی پر اثر پڑا لیکن ساہیوال میں تو شاید سیلاب نہیں آیا۔واللہ اعلم۔امت محمدیہ کی فضیلت میں نے اپنی پہلی تقریر میں خدام کے سامنے بعض ضروری باتیں رکھی تھیں آج میں اسی کے تسلسل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو خیر امت ہی نہیں ٹھہرایا بلکہ اسے اخرجت للناس بھی کہا ہے۔جہاں تک رب العالمین کی ربوبیت کا تعلق ہے قرآن کریم نے اس مضمون کو جس وضاحت اور جس حسین پیرایہ میں بیان کیا ہے، پہلی کتب نے نہ اس طرح بیان کیا اور نہ وہ ایسا کر سکتی تھیں کیونکہ پہلے انبیاء میں سے کوئی بھی رحمۃ العالمین نہیں تھا پہلے انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کے لئے اور محدود زمانوں کے لئے رحمت اور روشنی اور برکات کا موجب ضرور بنے لیکن یہ شرف صرف ہمارے سید المرسلین حضرت محمد رسول ﷺ کو حاصل ہوا۔آپ رحمتہ اللعالمین بن کر دنیا کی طرف مبعوث ہوئے۔آپ نے جس گروہ اور امت کو تربیت دی براہ راست اپنے زمانہ میں یا بعد میں اپنی قوت قدسیہ کے ذریعہ ( یعنی روحانی طور پر ) تربیت یافتہ وجودوں کی پیدائش کا موجب بنے وہ آنحضرت ﷺ کے عشق میں فنا ہو گئے اور اپنے پیدا کرنے والے رب کی محبت میں غرق ہو گئے اور ایک نیستی کی چادر اوڑھ لی۔اور اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ توفیق پائی کہ وہ خدا کے بندوں کی خدمت کریں اور پیار سے ان کے دل جیتیں اور ان کے اندر ایک عظیم روحانی تبدیلی پیدا کریں تا کہ وہ حقیقی معنوں میں خیر امت بن جائیں۔قرآن کریم - خاتم الکتب غرض قرآن کریم ساری دنیا کے لئے خاتم الکتب کی حیثیت سے ”مبارک ہو کر آیا ہے یعنی یہ نہ صرف پہلی تمام صداقتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے بلکہ سب بنیادی صداقتوں پر مشتمل ہے۔یہ ان کی ایک حسین تصویر پیش کرتا ہے۔یہ ان تمام چیزوں کا ذکر کرتا ہے جن کی بنی نوع انسان کو قیامت تک ضرورت پڑنی تھی۔اس لحاظ سے یہ خاتم الکتب ٹھہرا کیونکہ یہ اگلی اور پچھلی سب صداقتوں کا جامع ہے۔اس طرح اور اسی وجہ سے امت محمدیہ وہ امت بنی جو اخرجت للناس “ ہے۔چنانچہ چودہ سو سال سے ہمیں اس سلسلہ میں عملاً ایک جد و جہد نظر آ رہی ہے جو