مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 349

فرموده ۱۹۷۲ء 349 د دمشعل تل راه جلد دوم نہیں کی اس کیلئے قانون قدرت ایک نئی شکل میں ظاہر نہیں ہوگا۔اسے خدا کے عام قانون کے مطابق چلنا پڑ۔گا۔خدا تعالیٰ کا وہ قانون جو علم کے حصول کیلئے ہوتا ہے اس کے متعلق میں اس وقت اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے حالات ملکی بھی اور اجتماعی طور پر ساری دنیا کے حالات بھی کچھ بدل گئے ہیں اور کچھ بدل رہے ہیں اب ان بدلے ہوئے حالات میں ہمیں اپنے تدبر کو ، اپنے فکر کو اپنی تدبیر کو اور اپنی دعاؤں کو نئے راستوں پر ڈالنا ہوگا۔ور نہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ، ورنہ ہماری کوششیں اور ہماری تدبیریں اور ہماری دعائیں عند اللہ اعمال صالحہ میں شمار نہیں ہوں گی۔کیونکہ عمل صالح کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ حالات کے مطابق کام کیا جائے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے دعا تدبیر ہے اور تدبیر دعا ہے یہ ایک بڑا لطیف مضمون ہے۔جن دوستوں کو اللہ تعالی توفیق دے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے اس مضمون کو پڑھیں اور غور کریں۔ہمارے محاذ اور اور میدان عمل چنانچہ ان بدلے ہوئے حالات میں ہمارے محاذ یعنی عمل کے میدان بھی بدل گئے ہیں۔اب ہمیں عمل کے ان نئے میدانوں میں داخل ہونا چاہیئے۔ان کے اندر ہمیں شیروں کی طرح گھسنا چاہیئے۔ہمارے لئے کسی سے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔بلکہ ان نئے میدانوں میں بھی اللہ کی تو فیق اور اس کے فضل کے ساتھ بہتر رنگ میں کام کرنا چاہیئے۔اس کے متعلق اصولی طور پر ایک مضمون اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالا ہے۔زندگی رہی اور اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی تو آخری دن اختتامی دعا کے موقع پر اس کے متعلق کچھ بیان کروں گا تاہم اس وقت میں علم کے متعلق تمہیداً کچھ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ہمارے کچھ حالات تو اس طرح بدلے کہ ہماری موجودہ حکومت جو اپنے آپ کو عوامی حکومت کہتی ہے اس نے ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی Nationalise(میشلائز ) کر لیا یعنی قومی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ احمدی گھبرا جاتے ہیں۔میں ایسے دوستوں سے کہتا ہوں اگر یہ واقعی عوامی حکومت ہے تو پھر یہ ہماری اپنی حکومت ہے کیونکہ ہم بھی عوام ہیں اور عوام ہی ہیں جنہوں نے زیادہ تر خود ووٹ دے کر یا دوسروں سے دلوا کر ان لوگوں کو منتخب کر وایا تھا جن کی آج حکومت ہے۔چنانچہ حزب مخالف نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ۲ لاکھ احمدی ووٹوں کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی جیت گئی۔میں نے تو اس سلسلہ میں اعداد و شمار اکٹھے نہیں کروائے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک احمدی رائے دہندگان کی تعداد کا تعلق ہے انہوں نے مبالغہ کیا ہے۔احمدی ووٹروں کی تعدد ۲۲ لاکھ نہیں ہے۔لیکن ایک اور حقیقت بھی کارفرما ہے اور یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے بہت قریب معلوم ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ پارٹیشن کے وقت جماعت کو ایک بڑا دھکا لگا تھا پھر بھی ہر احمدی ووٹر کم از کم دو غیر احمدی دوست بطور ووٹر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔چنانچہ عام انتخابات سے پہلے ایک دوست مجھے ملنے آئے وہ گجرات کے ایک حلقے میں امیدوار تھے۔کہنے لگے آپ مجھے ووٹ دیں۔میں نے کہا کہ آپ کے اس حلقہ میں ساٹھ ستر ہزار ووٹ ہیں جب