مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 347

قل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 347 دومشعل شاید اتنا خرچ بھی نہ کر سکیں۔حالانکہ ہمارا مقصد سب کو برابر سطح پر رکھنا ہے۔پھر ہم نے پلاسٹک کے چھلے بنوائے اس میں بھی دو قسم کے تیار ہوئے جن میں سے ایک قسم کو پسند کیا گیا اور اس کے مطابق یہ چھلے تیار کروائے گئے۔اب اس کی قیمت فی چھلا دس پیسے ہے۔اب کجا چاندی کے چھلے جن کی قیمت دس روپے تھی اور کجا یہ چھلے جن کی قیمت دس پیسے ہے۔پھر ہم نے کپڑوں کے رومال بنوائے۔پہلے ایک بنوایا پھر دوسرا بنوایا۔غرض مختلف شکلوں کے رومال بنوائے۔چنانچہ تجربہ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اس اس طرح کے رومال سستے بن جائیں گے اور اچھے بھی ہوں گے۔مثلاً اس میں سے سفید اور کالی پٹیاں ہیں۔ان کی تقسیم اور ان کی شکل غرض ہر چیز کا تجربہ کر کے اور پھر پہنا کر اور دیکھ کر بالآخر اس نتیجے پر پہنچے جو اس وقت ہم سب کو نظر آ رہا ہے۔عملی کام کے لئے تجربہ کی اہمیت میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں عملی کام کرنا ہو وہاں محض تھیوری اور خالی بسیط علم کے نتیجہ میں انسان کامیاب نہیں ہوا کرتا۔اسے ہر کام کو عملا تجربہ کر کے دیکھنا چاہیئے اور پھر پورے شرح صدر کے ساتھ کسی نتیجہ پر پہنچنا چاہیئے یہ ہماری زندگی کی بڑی ضروری اور بنیادی حقیقت ہے۔حقائق زندگی ( حقائق اشیاء میں نہیں کہہ رہا) کیلئے یہ ایک بنیاد چیز ہے کہ محض (Theory) بسیط علم کے نتیجہ میں زندگی کے کسی مرحلے پر فیصلے نہیں ہوتے۔نہ اپنی خواہشات اور نہ نقل کے نتیجہ میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ اس سے بڑی خرابی پیدا ہوتی ہے۔میں نے کئی نو جوانوں کو اپنی عمر میں ضائع کرتے دیکھا ہے۔مثلاً ایک بچہ ہے جس پر مجھے رحم آتا ہے غصہ نہیں آتا ، اس نے اپنی زندگی میں غلط راستہ اختیار کر رکھا ہے۔وہ چار سال سے ہر سال بڑے الحاج کے ساتھ مجھ سے یہ دعا کر وا تارہا ہے کہ میں یو نیورسٹی میں اول آؤں اور ہر سال قیل ہوتا رہا ہے یعنی اس نے حقیقت کو نہیں پہچانا۔پس محض دعا کے نتیجہ میں کامیابی نہیں ہوا کرتی۔دعا کے نتیجہ میں کامیابی تب حاصل ہوتی ہے جب فضل رب کریم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی مادی عطا میں اسی نسبت سے زیادتی نہ ہو جائے۔دعا اور تدبیر مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیماری اور صحت کے متعلق ایک بڑا بنیادی اور حسین مضمون بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں ایک شخص بیمار ہے ساری دنیا کے ڈاکٹر اس کی بیماری کی تشخیص اور علاج کرتے ہیں لیکن اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔پھر ایک دن ایک معمولی سی دوائی اسے فائدہ پہنچا دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دینی ہو اور اس کی دعا کو اس نے قبول کرنا ہو تو وہ اس کے جسم کے ذروں میں ایک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے اور ان کو یہ حکم دیتا ہے کہ دوا کا اثر قبول کرو تو پھر جسم کے ذرے دوائی کے اثر کو قبول کر لیتے ہیں (پہلے ان کو یہ حکم نہیں ہوتا ) اور دوا کو کہتا ہے کہ وہ انسانی جسم پر اثر کرے گویا