مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 342

342 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم حفاظت کرے بلکہ اس وقت بھی دعا ئیں تھیں کہ دنیا میں بسنے والے انسان کی اللہ تعالیٰ جہنم میں جانے نے حفاظت کرے۔کیونکہ جس قسم کی دعا ہوتی ہے اسی قسم کی قبولیت ہوتی ہے۔اس موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت تڑپ اور الحاح کے ساتھ جو دعائیں کیں ان کا تو ہمیں نہیں پتہ کیونکہ تاریخ نے ان کو پوری شکل میں ریکارڈ نہیں کیا۔ممکن ہے کہیں چھوٹے چھوٹے اشارے ہمیں مل جائیں میرے ذہن میں اس وقت نہیں لیکن ان دعاؤں کی جو قبولیت تھی وہ ہمارے سامنے ہے۔جو بھی دعائیں کیں۔یعنی مدینہ میں مسلمان گھرا ہوا ہے اس کی وہ جان خطرے میں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ کسری کی حکومت میں بسنے والے اور قیصر کی بادشاہت میں زندگی میں گزارنے والے خدا تعالیٰ سے دوری اختیار کر کے اس کے غضب کے جہنم میں، دوزخ میں نہ جائیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کریں اور اس کی رحمت سے حصہ پائیں۔کیونکہ ) قبولیت یہ ہمیں نظر آئی کہ سر کی اور قیصر کی حکومتیں مسلمانوں کو مل جائیں گی۔مسلمان کو ان کے خزانوں سے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔مسلمانوں کو ان کے دلوں سے دلچسپی تھی اور مسلمانوں کو اس چیز سے دلچسپی تھی کہ وہ اندھیرے دل جو ظلمت میں اس طرح پھنسے ہوئے تھے کہ ان کو اپنی بھلائی یا اپنی نیکی کا بھی پتہ نہیں تھا ان کے لئے نیکی اور بھلائی کا سامان پیدا ہو جائے۔تو جو بھی دعائیں کیں جن کا ہمیں پتہ نہیں وہ محض مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں کیونکہ جو اس کی قبولیت ہے اس کا دائرہ اس وقت کی معلوم دنیا کی وسعتوں پر پھیلا ہوا ہے۔یہ دو ہی تو بڑی سلطنتیں تھیں یعنی قیصر اور کسریٰ کی ان کے لئے بھی دعا کی اور اس طرح اپنا خیر محض ہونا ثابت کیا یہ وہ بنیادی راہ عمل ہے جس کو اختیار کر کے ہم نے دنیا کو بتانا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہر ایک کے لئے بھلائی ہے ان معنی میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر ایک کے لئے بھلائی لائے۔آج ہی مجھے ایک غیر احمدی دوست ملنے آئے تھے میں نے ان سے کہا جو ہمیں گالیاں دیتے اور کفر کے فتوے لگاتے ہیں ان کے لئے بھی ہمارے دلوں میں نفرت اور حقارت کے جذبات نہیں ہیں بلکہ اخوت اور شفقت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے دل ان کے لئے بے چین ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے غضب کو مول لے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے بنیں۔ہمیں ان پر کوئی غصہ نہیں۔ہمیں ان کی فکر ہے ہمارے دل ان کے لئے بھی تڑپ رہے ہیں۔جو ہمیں گالیاں دے رہے ہیں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہدایت اور نور کے حصول کے سامان پیدا کرے۔یہ ہے وہ اسوہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری خدمت انسانی کا نچوڑ ہے کہ سوائے خدمت کے اور کوئی جذ بہ نہیں ہے۔ساری دنیا کی بادشاہتیں آپ کے قدموں پر ڈال دی گئیں اور اللہ تعالیٰ کا سارا پیار آپ کو حاصل ہو گیا۔لیکن سر اونچا نہیں ہوا۔اور کسی سے نفرت اور حقارت کا سلوک نہیں کیا۔آپ کی زندگی میں فروتنی اور ہمدردی کے بے مثال مظاہرے اس بات کا زندہ ثبوت ہیں۔یہی زندگی ایک احمدی کی ہونی چاہئے۔اس کے لئے آپ کو اپنی زندگی کی تربیت اس رنگ میں کرنی چاہئے کہ جب آپ سے کوئی یہ پوچھے کہہ ماذا انزل ربكم