مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 321

کل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 321 دومشعل میں پھر بتا دیتا ہوں کہ اشیائے مخلوقہ نے دو قسم کی خدمت کرنی تھی ایک خدمت انسان کی مرضی کے بغیر اپنی مرضی سے خدا کے حکم کے ساتھ۔مثلاً خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ کرو! یہ کرو! کرو! ایک وہ خدمت ہے جو خدا نے کہا اگر میرا بندہ چاہے تو پھر وہ خدمت کر دینا۔اگر مرا بندہ چاہے تو انجمن کو چلا دینا۔میں چاہوں تو نہ چلاؤں۔پانی کو یہ حکم تھا تو اس واسطے انجن تیار ہو گیا جس میں پانی گرم ہونے سے وہ چلنے لگتا ہے۔ویسے انتظار کیا گیا اس زمانے کا جو ہزاروں سال بعد آیا کہ جب انسان نے اپنی محنت اور کوشش سے پہلے ایک صحیح اصول اور جسمانی صداقت (اس کو ہم صداقت ہی کہیں گے ) کو معلوم کیا جو انسانی ذہن میں چھپی ہوئی تھی۔اور وہ تھی کہ پانی کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔پانی سے کس طرح خدمت کی جا سکتی ہے۔پھر اس کے لئے انسان نے ایک انجن بنایا۔اس میں کچھ غلطیاں کیں پھر اصلاح کی پھر غلطیاں کیں اور پھر اصلاح کی جو انجن آج ہمیں نظر آرہا ہے یہ ایک دن میں تو نہیں بنا۔گو آج پانی والا انجن جس کی میں مثال دے رہا ہوں وہ نئی سے نئی شکلوں میں ڈھلتا چلا جارہا ہے۔بہر حال جو انجن بنا ہے وہ ایک دن میں نہیں بنا اس کو بھی میرے خیال میں تاریخی طور پر ڈیڑھ دو سو سال لگے۔پہلے ایک انجن بنایا۔اس میں غلطی کی پھر اصلاح کی پھر غلطی کی پھر اصلاح کی۔پس انسان نے انجن کے متعلق جو غلطی کی اور اصلاح کی اس نکتے کو آپ یاد رکھیں آگے چل کر یہ ہماری اس گفتگو میں کام آئے گا۔چونکہ انسان نے یہ خدمت لینی تھی اس لئے یہ ڈر پیدا ہوتا تھا کہ وہ غلط خدمت نہ لے۔اشرف المخلوقات ہونے کہ باوجود اور اس آزادی کی وجہ سے جو انسان کو دی گئی ہے انسان خود کے لئے ہلاکت کے سامان نہ پیدا کرے۔جس طرح مثلا ایٹم کی دریافت انسان کے فائدہ کے لئے تھی لیکن انسان نے اس سے غلط خدمت لی اور جس طرح مثلا سیم کے فائدہ سے ایٹم بم ایجاد کر لئے۔پس اگر چہ شروع زمانہ سے سلسلہ انبیاء شروع ہو گیا لیکن اس وقت کا انسان اشرف المخلوقات کا Essence ایسینس یعنی نچوڑ کو قبول کرنے کے لئے جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی طور پر تیار نہیں تھا۔چنانچہ جس طرح زمین کو ایک لمبے عرصہ تک تیار کرنے کی ضرورت تھی اسی طرح بنی نوع انسان کو بھی ایک لمبے عرصہ تک تیار کرنے کی ضرورت تھی۔اصل مقصود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تھی لیکن آدم کے وقت کا انسان اس عظیم بوجھ کو جو حضرت رسول کریم ﷺ پر ڈالا جانے والا تھا اٹھانے کے قابل نہیں تھا کیونکہ اس کی ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی۔اس واسطے حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے تھوڑی سی تربیت ہوگئی پھر اور نسلیں آئیں جن میں اور انبیاء آئے پھر اور زیادہ تربیت ہوگئی۔ہزار ہا سال کی تربیت کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم کامل نے فیصلہ کیا کہ اب انسان کامل شریعت اور افضل نبی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے اور ان کی باتیں ماننے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔اگر حضرت محمد ﷺ حضرت آدم کی جگہ مبعوث ہو جاتے اور وہ قربانیاں لینا چاہتے جو صحابہ نبی صلى الله اکرم ﷺ نے دیں تو اس وقت کے لوگ کبھی دے ہی نہ سکتے۔