مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 303
303 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد نے یہ نہ سوچا کہ ایک وقت ایسا بھی آجائے گا کہ انگریزوں کے بچوں کو واقعی ہی افریقنوں سے ڈرنا پڑے گا۔اس وقت انہوں نے اندھیرے میں تمہید باندھ دی لیکن اب وہی اپنے پاؤں اور اپنے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔ایک وقت تک یہ ظالم ان سے ڈریں گے۔پھر افریقہ میں بسنے والوں کو مغرب میں جا کر کہنا پڑے گا۔تم کیوں ڈرتے ہو۔ہم کوئی عیسائی تھوڑے ہیں ہم سے کیوں ڈرتے ہو ہم کوئی دہریہ تھوڑے ہیں ہم سے کیوں ڈرتے ہو۔ہم کوئی یہودی تھوڑے ہیں ہم سے پیار لو کہ ہم احمدی ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں۔پس اسلام نے جب یہ کہا کہ تمام انسان بشر کی حیثیت سے مساوی اور برا بر ہیں تو یہ نہیں کہا کہ ملک ملک میں فرق کیا جائے گا یا نسل نسل میں فرق کیا جائے گا یا قبیلہ قبیلہ میں فرق کیا جائے گا یا زمانہ زمانہ میں فرق کیا جائے گا جس وقت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو مخاطب کر کے انہیں خدائی حکم بنایا۔قل انما انا بشر مشلکم اس وقت سے لیکر اس وقت تک کہ اس کرہ ارض پر آخری انسان آخری سانس لے گا یہ مساوات قائم رکھی گئی ہے اور قائم رہے گی۔غرض جو خدمت کا مقام ہے جس کے لئے مساوات ضروری ہے جس کے لئے خدمت کی بھی ضرورت ہے۔جس کیلئے حقوق کی ادائیگی کی بھی ضرورت ہے۔یہ بڑا ہی عجیب مقام ہے اور جب میں یہ سوچتا ہوں تو میرا دل خدا کی حمد سے بھر جاتا ہے۔ہر قسم کے گند سے نکال کر اس نے ہمیں ایک حسین مقام پر لا کھڑا کیا اور فرمایا کہ تم اپنے زور اور طاقت سے بلند نہیں ہو سکتے۔میں نے تم پر ظلم نہیں کہ میں نے یہ حکم دیا کہ تمہاری جبین نیاز زمین سے بلند نہ ہو بلکہ تم پر احسان کیا ہے کیونکہ جتنا تم اپنے زور سے بلند ہو سکتے تھے اور ارفع مقام تک جاسکتے تھے۔میں تمہیں اس سے بے شمار گنازیادہ اوپر اٹھا کر اپنے قریب لے آؤں گا تم میرے قریب ہو جاؤ گے۔خدا تعالیٰ تو بہت بلند ہستی ہے اس کی رفعت تک تو کوئی اور پہنچنے والا نہیں ہے۔تمثیلی زبان میں کہا گیا ہے کہ کوئی پہلے آسمان پر پہنچے گا کوئی دوسرے پر کوئی تیسرے پر کوئی چوتھے پر کوئی پانچویں پر کوئی چھٹے پر اور کوئی ساتویں پر اور کوئی اس کے عرش پر جا کر بیٹھ جائے گا۔یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جولوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے ہیں۔وہ اس رفعت اور آسمان تک نہیں جاسکتے جہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں پہنچے اور جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے ہیں وہ عقلاً یا مذ ہبا یا شرعاً اس بلندی ، اُس آسمان تک نہیں پہنچ سکتے جہاں تک ان کے نبی متبوع حضرت عیسی علیہ السلام نہیں پہنچے لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے رفعتوں کے عروج کو حاصل کیا یعنی جو سب سے ارفع جگہ تھی جس کے پرے انسانی تخیل نہیں پہنچ سکتا آپ وہاں تک پہنچے اور وہ اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔جہاں اس کی قدرتوں کے کامل نظارے ظاہر ہوتے ہیں اور جس جگہ خدا تعالیٰ کی صفات کے نظاروں کے لئے اس مادی دنیا کی بھی ضرورت نہیں اور جس کو ہم آج نہیں پہچان سکتے۔خدا کرے کہ اس کی ایک جھلک مرنے کے بعد ہم بھی دیکھ لیں۔بہر حال حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک پہنچے، وہ انتہائی نقطہ عروج ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ