مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 293
293 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد کے پاس جو آدمی تھوڑا سا لینے کے لئے آتا ہے تم وہ چیز اس کے ہاتھ میں پکڑا ؤ غرض مخالف ( اپنی مخالفتوں کے با وجود ) قوت احسان ہم سے نہیں چھین سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر خدا تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے تمہارے دماغ میں ایک لمحہ کے لئے احسان کا بدلہ لینے کا خیال پیدا نہ ہوا۔اس سلسلہ میں جو تمہیں جو ہدایتیں دی گئی ہیں اُن کے اوپر سختی سے قائم رہو اور صبر سے کام لو۔صبر کے متعدد معانی صلى الله صبر کے بہت سارے معنی ہیں مثلاً صبر کے ایک معنی تو شجاعت کے ہیں یعنی میدان جنگ میں صبر وثبات کے ساتھ قائم رہنا اور صبر کے ایک معنی کسی کا بچہ مرجائے تو نوحہ نہ کرنے کے ہیں یعنی اس بات پر قائم رہنا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اس کی رضا پر ہم راضی ہیں۔اس طرح یہ صبر مختلف شکلوں میں انسانی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔فرمایا اپنے رب کی خوشنودی کیلئے صبر کی راہوں کو اختیار کرو اور اگر تم صبر کی راہوں کو اختیار کرو گے تو تم اپنے رب کی زیادہ سے زیادہ خوشنودی اور اس کا پیار حاصل کرتے چلے جاؤ گے۔غرض یہ سات حکم حضرت محمد ﷺ کو دیئے گئے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے آپ اول المسلمین تھے۔اس لحاظ سے یہ آپ کی سات صفات بن گئیں اور کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ خدا نے فرمایا تھا کہ (اے رسول) تو مدثر بن اور ( نعوذ باللہ ) آپ مدثر نہیں بنے یا خدا نے فرمایا تھاتم فاند لیکن پھر بھی آپ لیٹے رہے اور خدا نے آپ کو فر مایا تھا کہ اپنے رب کی صفات کو دنیا میں بیان کر مگر آپ نے اس میں سستی اختیار کی (نعوذ باللہ )۔ایسا خیال بالکل خلاف واقعہ ہے۔اور ہم دوسروں کو بھی قائل کر سکتے ہیں کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے مخالفین اسلام یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کو نہیں مانتے کہ وہ خدائی شریعت اور خدا کی کتاب اور خدا کے احکام پر مشتمل ہے لیکن اس سے وہ انکار نہیں کر سکتے کہ اس میں جو بھی حکم دیا گیا ہے محمد رسول علی علیہ نے اس پر عمل کیا۔آپ تو اول امس تھے۔سات صفات کی اہمیت سلمین پس یہ دراصل سات صفات ہیں جو ہمارے لئے مظلومیت سے کامل محسن بنے تک کے راستے کے نشان ہیں۔آنحضرت ﷺ کے وقت شروع میں اسلام ایک مظلوم کی حیثیت میں تھا۔کفار مسلمانوں کو گرمیوں میں تپتی ہوئی ریت یا پتھروں پر لٹا دیتے تھے یا ان کے سینے پر پتے ہوئے پتھر رکھ دیتے تھے۔بعض دفعہ کوڑے لگاتے تھے۔مسلمان عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مارتے تھے ان کی لاتیں پکڑ کر گھسیٹتے بلکہ بعض دفعہ چیر دیتے تھے۔غرض مسلمان مظلوم تھے خدا تعالیٰ نے فرمایا۔میں تمہیں یہ سات گر سکھاتا ہوں تم ان پر عمل کرو۔تمہاری جتنی