مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 289
289 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد سے دُور نہیں لیجاسکتی۔وہ کہے گا میری آنکھوں نے دیکھا وہ کہے گا میرے جذبات نے اُسے محسوس کیا۔میرے دل میں اس سے زیادہ پیار پیدا ہوا جو ماں کی گود میں کبھی حاصل کیا تھا۔اس سے زیادہ پیار پیدا ہوا جو میں اپنے پیار سے بچے کو اٹھا کر سرور حاصل کرتا ہوں یا دوسرے محبت کرنے والے وجود ہیں ان کے پیاروں کی نسبت یہ بہت زیادہ پیار ہے جسے میرے وجود اور میری روح نے محسوس کیا۔پس تمہاری دلیلوں کو میں کیا کروں تم تو اُس قادر و توانا ہستی پر ایمان نہیں لاتے اس لئے تم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ایک ایمان افروز واقعہ ۱۹۶۵ء میں ایک عورت کو جس کا بیٹا میجر تھا اور سیالکوٹ کی سرحدوں پر تھا ایک رات میں اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ غیب کا علم دیا پہلے یہ کہ پاکستان کی حفاظت کا انتظام ہو گیا ہے اس ہماری بہن نے کہا۔خدایا یہ تیرا بڑا احسان ہے۔لیکن مجھے تو میری مامتا سونے نہیں دیتی مجھے یہ پتہ لگے کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا بھی سامان ہوا ہے یا نہیں۔پاکستان کی حفاظت کے یہ معنی تو نہیں کہ کوئی بھی جان کی قربانی نہیں دے گا۔چنانچہ وہ دعا کرتی رہی تو دوسری دفعہ اسی رات اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا کہ سیالکوٹ کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہم نے فرشتوں کو بھیج دیا ہے اس نے کہا بھیج دیئے ہیں لیکن میرے بیٹے کا تو اب بھی ذکر نہیں آیا مجھے تو تسلی نہیں ہوئی۔وہ دعا کرتی رہی تو تیسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اُسے کہا کہ تیرے بیٹے کی حفاظت کا بھی سامان کر دیا گیا ہے۔میں یورپ کے دہریوں سے کہا کرتا تھا کہ میرے نزدیک ایک رات میں تین دفعہ اس عورت ک جو بتایا گیا یہ بھی خدا کی بڑی شان ہے لیکن اس خبر کے بعد اس یقین کا دل میں پیدا ہو جانا کہ خبر دینے والا واقعی قادر وتوانا ہے اور جو اس نے فرمایا ہے وہ پورا ہوگا یہ اس سے بھی بڑی چیز ہے اور تم عیسائی دنیا میں یاد ہریوں کی دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں پیش کر سکتے۔دہریت کا حقیقی علاج اب یہ جود ہریت ہے اس کا تو علاج ہی یہ ہے کہ وہ خدا کو مان لیں۔وہ خدا کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ خدا پر ایمان لانا افیون کھانے کے مترادف ہے ہم کہتے ہیں کہ خدا کو چھوڑنا بھنگ کے استعمال سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور تم نے بھنگ اور اس کا ست نکال کر پینا شروع کر دیا ہے۔امریکہ وغیرہ میں اس کا عام رواج ہو گیا ہے اور اس سے یہ قومیں تباہ ہورہی ہیں خدا تعالیٰ جو کبھی سوتا ہی نہیں بلکہ اسے اونگھ تک نہیں آتی قرآن کریم نے اس کی یہ صفت بیان کی ہے اس کا مانے والا افیمی بنکر اونگھے گا کیسے؟ اس کے لئے مذہب افیون نہیں بن سکتا۔مذہب اس کی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔مذہب اس کی اہلیت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کا ذریعہ بنے گا۔مذہب ہر قسم کی ذمہ داریوں کو احسن طریق پر نباہنے کا ذریعہ بنے گا کمیونزم نے کہدیا To each according to his needs لیکن needs کی تعریف نہیں کی۔(اس کی تفصیل میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں ) کئی موقع پر اتفاق ہوا سوال