مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 284

دد مشعل راه دوم فرمودها ۱۹۷ء 284 کی کوشش کرو۔جب کوئی مجھ سے بات کرتا ہے تو میں کہتا ہوں دیکھو! ہم جوبھی ہیں ہمیں فخر نہیں ہے کیونکہ حضرت نبی کریم ﷺ جیسے وجود بھی جب خدا تعالیٰ کی کوئی نعمت بیان فرماتے تو ساتھ یہ بھی فرما دیتے لانخر کہ ذاتی طور پر میرے اندر کوئی خوبی نہیں (جو کچھ دیکھ رہے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔لیکن ہم تو کسی شمار میں ہی نہیں۔اگر آنحضرت ﷺ ایک دفعہ لا فخر فرمایا کرتے تھے تو ہمیں ایک ہزار دفعہ کہنا چاہیے کیونکہ ہمارے اندر کوئی خوبی نہیں ہے لیکن جس عظیم طاقت کے ساتھ اور جس حسین اور اکبر اور ارفع وجود کے ساتھ ہم نے اپنا تعلق قائم کیا ہے وہ سب طاقتوں والا ہے۔وہ عزت کا بھی سر چشمہ ہے اور علوم کا بھی وہی منبع ہے اور تمام قدرتوں کا بھی وہی مالک ہے کونسی چیز ہے جو اس کے پاس نہیں اور کہیں اور سے جا کر لی جاسکتی ہے۔جب ہر چیز اُسی کے پاس اور اُسی سے لی جاسکتی ہے تو پھر بھروسہ بھی اسی پر کیا جاسکتا ہے۔پس باہر جا کر دوسروں کو صفات باری بتانی چاہئیں۔ایران میں مسلمانوں کی فتوحات مسلمانوں کی تاریخ کے پہلے تین سوسال کا یہ نظارہ ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ مٹھی بھر تھے مگر کسری جیسی عظیم طاقت کے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔دنیا ان کو پاگل کہتی تھی اور وہ انہیں پاگل سمجھنے میں اپنے معیار کے مطابق حق بجانب تھی خلیفہ وقت نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ ایرانی ہمارے خلاف جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور انہوں نے سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے تو ان کے اس فتنہ و فساد کوختم کرو۔چنانچہ حضرت خالد نے خلیفہ وقت کے حکم کے ماتحت ۱۸ ہزار مسلمان سپاہیوں کے ساتھ ایران پر حملہ کر دیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ دشمن کی طاقت زیادہ ہے بلکہ جوں ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ملا ایرانیوں پر حملہ کر دیا۔میرا خیال ہے کہ حضرت خالد ایران میں آٹھ دس جنگیں لڑ چکے تھے جب ان کو حکم ملا کہ اب شام چلے جاؤ۔ہر جنگ میں ایرانیوں کی تازہ دم فوج جس کی تعداد چالیس سے اسی ہزار تک ہوتی تھی ان کے مقابلے پر آتی رہی اور یہ کل اٹھارہ ہزار ( جن میں سے کچھ شہید ہو جاتے تھے اور کچھ زخمی اور سب تھکے ہوئے ) دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے۔گو ایک ایک دن کی جنگ ہوتی تھی اللہ تعالیٰ فضل کرتا تھا۔لیکن مسلمانوں نے ان معرکوں میں صبح سے لے کر شام تک تلوار چلائی۔آپ لکڑی کی تلوار لے کر مشق کریں تو پتہ لگے۔ایک گھنٹے کے بعد آپ کے بازو شل ہو جائیں گے مگر وہ لگاتار چلاتے تھے ان پر ایک جنون سوار تھا وہ جنون آپ کے اندر پیدا ہونا چاہئیے یہ بات نہیں کہ وہ لوہے کے بنے ہوئے تھے وہ بھی ہماری طرح کے انسان تھے۔مگر اُن کے سامنے زندگی اور موت کا سوال تھا۔صبح جنگ شروع ہوتی تھی اور شام کو ختم ہوتی تھی۔یہ درست ہے کہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تھی لیکن ۱۸ ہزار اور ۶۰ ہزار کا مقابلہ کیا ؟ خصوصاً جبکہ ایرانی ہر گھنٹے کے بعد اگلی صفوں کو پیچھے ہٹا لیتے تھے اور تازہ دم فو جیں آگے آجاتی تھیں اور یہ بیچارے اسی طرح لڑ رہے ہوتے اور پھر گھنٹے دو گھنٹے بعد دشمن کی اور تازہ دم فوج مقابل پر آجاتی تھی اور یہ سلسلہ اسی طرح شام تک جاری رہتا تھا۔وہ مرنے کے لئے آگے بڑھتے تھے اور یہ مارنے کے لئے گو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لڑ رہے ہوتے تھے۔