مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 267

د و مشعل راه جلد دوم دد ۴۰۱ فرموده ۱۹۷۰ء 8192▾ 267 اس گراف سے عیاں ہے کہ ۱۹۶۶ ء تک اجتماع میں شامل ہونے والی مجالس کی تعداد گرتی رہی تھی حتی کہ ۲۱۰ سے گر کر ۱۹۶۶ء میں یہ تعداد ء ا رہ گئی تھی۔اس کے بعد تین سال تک آپ کو گو یا ہسپتال میں رکھا گیا اور خدا کے فضل سے یہ تعداد بڑھنی شروع ہوئی اور رفت رفته ۱۹۲۹ تک یہ ۲۷ تک جا نچی۔یہ بتدریج ترقی واضح طور پرصحت کی علامت تھی۔اس کے بعد میں نے ایک مخلص بچہ کو جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی تعلق تو نہ تھا لیکن روحانی تعلق بہت پختہ تھا خدام الاحمدیہ کی صدارت سونپی۔اللہ تعالیٰ نے اسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی اس کی کوششوں میں برکت ڈالی اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمایا۔۱۹۷۰ء میں یہ تعدا یکدم ۲۴۷ سے ۴۰۱ تک جا پہنچی ہے۔اس لحاظ سے آپ کا یہ اجتماع آپ کے حق میں غسل صحت کا درجہ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور احسان کو دیکھ کر میرا دل اپنے رب کی حمد سے معمور ہے اور میری روح سے خوشیوں کے دھارے بہہ رہے ہیں۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا یہ خوشی کا مقام ہے کہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کا جسم صحت یاب ہو گیا ہے اب آپ غلبہ اسلام کی کوششوں کی شاہرہ پر انشاء اللہ العزیز آگے ہی آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ خلوص نیت کی وجہ سے ہماری کوششوں کو قبول فرمائے گا اور ان کا وہ نتیجہ نکالے گا جو ہم چاہتے ہیں کہ ہماری حقیر کوششوں کا اس کے فضل خاص کے ماتحت نتیجہ نکلے۔لیکن ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جو نتیجہ ہم چاہتے ہیں کہ نکلے وہ توحید پر پختگی سے قائم ہونے سے نکل سکتا ہے۔ضروری ہے کہ ہم تو حید پر اس قدر پھنگی سے قائم ہوں کہ شرک کی کوئی ملونی اس میں نہ پائی جائے۔سب سے خطر ناک شرک خود اپنے نفس کا شرک ہے۔عاجزی کی راہیں اختیار کر کے اور نیستی کا جامہ پہن کر ہی ہم نفس کے شرک اور اس کی ہلاکت آفرینی سے محفوظ رہ سکتے ہیں جب ہم عاجزی کی راہیں اختیار کرینگے تب ہی غلبہ اسلام کے وعدے ہمارے حق میں پورے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں۔دنیا میں غلبہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلال کے قیام سے متعلق خدائی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے واضح فرمایا کہ غلبہ اسلام کے لئے جس پاک جماعت کی ضرورت تھی اور اس جماعت کی کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے جس خدائی تائید و نصرت اور نزول برکات کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے ان سب ضرورتوں کو پورا کرنے کا بھی وعدہ فرمایا۔اس ضمن میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور ارشادات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کو قیامت تک غلبہ عطا ہونے اس غلبہ کے زمین کے کناروں تک وسیع ہونے اور خالص دلی محبتوں کے نفوس و اموال میں برکت عطا ہونے سے متعلق خدائی وعدے پڑھ کر سنائے اور ساتھ کے ساتھ اپنے سفر مغربی افریقہ کے ایمان افروز واقعات بیان کر کے اور اس کے نتیجہ میں ملنے والی غیر معمولی برکات پر روشنی ڈال کر ان وعدوں کے پورے ہونے کو بہت مسحور کن انداز میں واضح فرمایا۔خدائی وعدوں کے پورا ہونے اور ان کے مہتم بالشان عملی ظہور کا یہ تذکرہ جمیل اس قدر ایمان افروز اور روح پرور تھا کہ ہزاروں ہزار سامعین فرط