مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 251
251 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد آپ نے قائد بنا ہے اور قائد اس کو کہتے ہیں جس کا اپنا نفس باقی نہ رہے۔یعنی تواضع، انکسار اور خاکساری کی وجہ سے اس کا نفس مٹ جائے۔( میں نے بتایا ہے کہ ان کے درمیان بھی ایک بار یک فرق ہے لیکن چونکہ دیر ہوگئی ہے اس لئے ان کے باریک فرق میں میں اس وقت نہیں جاسکتا۔پس ایک خادم میں تواضع انکسار اور خاکساری کی رُوح ہونی چاہیئے۔جو دراصل ایک سچے مسلمان کی روح ہے۔اس عمر میں ہم آپ کی تربیت کر رہے ہیں تا کہ یہ آپ کے جسم اور آپ کی روح اور آپ کے ذہن کا حصہ بن جائے۔پس آپ میں سے ہر ایک کے اندر یہ روح ہونی چاہیئے کہ ہم کچھ نہیں یعنی تنظیم کے لحاظ سے ایک عام خادم ہیں۔سائق، قائد زعیم اور پھر مہتم اور صدر میں غرض نیچے سے لے کر اوپر تک یہ روح کارفرما ہونی چاہئے کہ ہم کچھ نہیں اگر یہ روح پیدا ہو جائے تو بہت سارے مسئلے آپ ہی حل ہو جائیں۔آپ خود سوچ لیں گھر جا کر۔اگر یہ روح ہم جماعت کے سارے نوجوانوں میں پیدا کر دیں کہ ہم کچھ نہیں تو پھر فطرت ایک ریلا کرتی ہے دل اور دماغ اور روح پر اور کہتی ہے کہ یہ تو درست ہے کہ تم واقعہ میں کچھ نہیں ہو لیکن جب کچھ ہے اس سے تعلق کیوں پیدا نہیں کرتے دراصل اس کے بغیر اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔حضرت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی جوتی کا ایک تسمہ ٹوٹ گیا اور اس نے یہ سمجھا کہ میں نے اپنے زور اور مال سے یا اپنی طاقت سے یہ تسمہ لے سکتا ہوں وہ مشرک ہے۔حالانکہ تسمہ کی حقیقت کیا ہے! انسان با آسانی بازار سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر دکان سے لاسکتا ہے۔ایک دو آنے اس کی قیمت ہوتی ہے۔ایک ہزار روپے ایک شخص کو تنخواہ مل رہی ہے وہ یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ میرے پاس دولت بھی ہے میری ٹانگیں بھی ٹھیک ہیں۔مجھے کا ر ملی ہوئی ہے تو میں اپنے زور اور دولت کے ذریعہ تسمہ لے لوں گا لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں تسمہ بھی نہیں مل سکتا تھا۔جب تک تم خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے دعا کے ذریعہ اس کے فضل کو نہ پاؤ۔اور یہ ایک حقیقت ہے محض کہانی یا فلسفہ نہیں ہے۔دنیا میں کتنے آدمی تسمہ لینے کے لئے جاتے ہیں اور راستہ میں مرجاتے ہیں یا تو دوکان پر پہنچ ہی نہیں سکتے یا گھر واپس نہیں آسکتے۔ہزار ہا موتیں اس طرح ہو جاتی ہیں۔کوئی شخص گھر میں آکر یہ سمجھے بیوی بڑی اچھی ہے اس نے میرے لئے ٹھنڈا پانی رکھا ہوا ہے۔میں گرمی میں باہر سے کام کر کے آیا ہوں اب میں یہ پانی پیوں گا، مجھے لذت حاصل ہوگی۔الغرض اسے بڑی اچھی خیال رکھنے والی بیوی ملی ہے لیکن اگر وہ شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس پانی سے میں فائدہ اٹھا سکتا ہوں تو یہ غلط ہے جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے پانی کسی کی زندگی کا موجب نہیں بن سکتا۔یہ بات ثابت کرنے کے لئے میرے ذہن میں کئی مثالیں ہیں۔آپ نے بھی اخباروں میں کئی دفعہ پڑھا ہوگا۔ایک شخص باہر سے آیا اس نے پانی پیا اور مر گیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے پانی کو کہ اس کے جسم کا حصہ بن یا اس کی موت کا باعث بن۔اسی طرح کھانے کے ایک لقمے میں انسان کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ زندگی کا باعث بنے گا یا نہیں۔بعض دفعہ آدمی آرام کے لئے لیٹتا ہے اگلے روز اس کے متعلق اخباروں میں آجاتا ہے کہ باہر سے تھکا ہوا آیا تھا آرام کرنے کے لئے لیٹا بیوی مجھی کہ سو گیا ہے آرام آ رہا ہے۔جب ذرا دیر ہوگئی تو دیکھا مردہ پڑا ہوا ہے۔پس نیند اس کی راحت اور سکون اور آرام کا