مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 234
د و را فرموده ۱۹۷ء 234 مشعل راه جلد دوم میں ایک مسلمان جماعت کا سر براہ ، بڑی آزادی سے اس نے مجھے کہا کہ ان غیر ملکی عیسائی مشنوں نے ہمارے ملک کو تباہ کرنے کی انتہائی کوشش کی۔اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہم محفوظ رہے اور بچ گئے ہیں۔اور جاتے ہوئے اس نے مجھے دعا کے لئے کہا میں تو سمجھا کہ ایک عیسائی تکلف سے کہہ رہا ہے کہ دعا کریں۔میں نے کہا اچھا دعا کریں گے۔لیکن جب میری نظر اس کے چہرہ کی طرف گئی تو میں نے محسوس کیا کہ میں اس کی بات کو سمجھا نہیں۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مطلب ہے کہ اسی وقت با قاعدہ فورمل طریق پر دعا کرواؤں تو اس نے کہا ہاں یہی میرا مطلب ہے۔تب میں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور وہ بھی اپنے طریق پر شامل ہوا۔تو اسی ماحول اور بیک گراؤنڈ میں وہ کہنے لگا کہ ہم آپ کے بہت ممنون ہیں۔آپ کی جماعت یہاں بہت اچھا کام کر رہی ہے۔اس کے برعکس میرے وہاں پہنچنے سے پانچ روز قبل ویسٹ افریقہ کا آرچ بشپ وہاں پہنچا تھا اور اس نے بھی گوان سے ملاقات کی اور اخباروں میں مکمل یہ خبر چھپ گئی کہ گوان بڑا روکھا ہے اس نے آرچ بشپ کو دعا کے لئے نہیں کہا۔جب ان کی ملاقات ختم ہوگئی تو آرچ بشپ نے خود ہی کھسیانے ہو کر کہا کہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں لیکن مجھے جاتے ہی اس نے دعا کے لئے کہا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی طبیعت ایک فرق محسوس کر رہی تھی کہ یہ لوگ صرف خدمت کے لئے یہاں آئے ہیں ہمارے مالوں سے یا ہماری سیاست سے ان کو دلچسپی نہیں ہے۔محبت کا پیغام لے کر اور خدمت کا جذبہ لے کر یہ یہاں پہنچے ہیں۔اس کے مقابلے میں کر چین مشن یہاں آئے۔ٹھیک ہے انہوں نے سکول بھی بنائے اور بھی کام کئے۔مگر انہوں نے ان ملکوں پر جتنا روپیہ صرف کیا اُس سے کہیں زیادہ وہ ان ملکوں سے باہر لے گئے۔لیکن ہم کچھ لے کر گئے اور ایک دھیلا بھی وہاں سے نہیں لائے۔حکومت کو بھی اس کا علم ہے اور عوام کو بھی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں احمدیت کا چرچا ہے۔اس لئے کہ ہم نے اسلام کی تعلیم پرعمل کیا، ان سے بھائیوں جیسا سلوک کیا، ان سے محبت کی ان کی خدمت کی۔انہیں یہ احساس نہیں دلایا کہ ہم میں کوئی برتری ہے بلکہ یہ احساس دلایا کہ ہم بھی ان جیسے ہیں۔اور یہی احساس دلانا چاہیئے تھا کیونکہ مسلمان کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں سوائے اس کے کہ وہ محمد ﷺ کے ساتھ بغاوت کر رہا ہو۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے یہ اعلان کروایا۔قل انما انا بشر مثلکم۔جب نبی کریم ﷺ جیسا عظیم اور ارفع انسان بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں تو کون انسان ہے جو یہ کہے کہ میں چوہڑے اور چہار سے ارفع اور اعلیٰ ہوں۔چند نو جوانوں نے سوال کیا تھا۔میں نے کہا بچوں والا سوال ہے۔اس لئے کہ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بنتا ہے کہ ہم ایک جمعدار سے محبت نہیں کر سکتے۔اس لئے اس سے یہ پیشہ چھڑایا جائے تا کہ ہم اس سے پیار کرنے لگ جائیں۔ایک جمعدار سے ایک احمدی کو محبت کرنی پڑے گے۔اگر اس نے محمد کا پیار اور خدا کا پیار حاصل کرنا ہے۔لیکن ہم نے ان کو بے روزگار نہیں کرنا۔بحیثیت انسان ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ربوہ کا ہر جمعدار اس بات کا گواہ ہے کہ ہم ان کا خیال رکھتے ہیں۔صلى الله