مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 213
213 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد د دوم بد خیالات کا یہی حال ہے۔ان سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے۔اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اولا دہی حقیقی اولاد ہے اسی واسطے آپ نے اپنی جسمانی اولاد کے متعلق فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبول کیا اور ان کو روحانی وجود بنادیا۔اگر محض جسمانی اولاد ہونے میں کوئی خوبی ہوتی تو آپ کو نہ ان دعاؤں کے کی ہو۔کرنے کی ضرورت تھی نہ ان کی قبولیت کی حاجت ہوتی۔پس اصل چیز یہ ہے کہ روحانی رشتہ مضبوط ہو۔خواہ جسمانی تعلق نہ بھی ہو۔اس واسطے وہ لوگ بھی غلطی پر ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض جسمانی اولاد ہونا کوئی بڑائی ہے۔بعض لوگ اسلام میں ایسے بھی ہوئے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی اولاد سے محض اس لئے دشمنی کی کہ وہ آپ کی جسمانی اولاد تھے لیکن یہ بھی غلط ہے کہ چونکہ جسمانی اولاد تھے اس لئے ان کو عزت حاصل ہوگئی لیکن اس رشتہ کے نتیجہ میں کوئی انہیں بزرگی دیتا ہے تو وہ جاہل مطلق ہے۔اس کے اندر کوئی روحانیت نہیں ہے۔کوئی عقل نہیں ہے۔اصل تعلق روحانیت کا ہے جسمانی اولاد میں اگر یہ تعلق پختگی کے ساتھ قائم ہو جائے۔ان میں ایثار اور قربانی اور بے نفسی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دیتا ہے اور اپنے قرب اور رضا سے نوازتا ہے اور جس نے جسمانی اولاد نہ ہونے کے باوجو د روحانی اثر کو قبول کر کے اپنے آپ کو دنیا کی نگاہ میں حقیقی اولا د جیسا بنا دیا۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ صرف اس وجہ سے کہ چونکہ جسمانی تعلق نہیں تھا اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور مرتبہ نہیں پاسکتا۔یہ بھی غلط ہے۔دونوں باتیں غلط ہیں۔اصل صراط مستقیم یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور احترام کو حاصل کر لیتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔وہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے دین کے کام کرنے کی توفیق پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں کو قبول کرتا ہے۔خواہ اس کا مامورزمانہ سے جسمانی تعلق ہو یا نہ ہو پس وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ان کا جسمانی تعلق ہے۔اس لئے ان کو بڑا کہنا چاہیے۔وہ بھی غیر معقول بات کرتے ہیں اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ جسمانی تعلق ہے اس لئے اچھے ہو گئے ہیں اور انہوں نے ورثہ میں عزت و احترام کو پالیا ہے۔یہ بھی غلط ہے۔اس طرح پر تو ورثہ میں کسی کو عزت و احترام نہیں ملا کرتا۔پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ جسمانی رشتہ نہیں ہے۔اس لئے اکرام اور بزرگی نہیں مل سکتی۔یہ خیال غلط ہے۔غرض جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ جسمانی تعلق ہے۔اس لئے ضرور بزرگی مل جائے گی۔یہ بھی غلط ہے۔اصل میں روحانی تعلق نام ہے تقویٰ اختیار کرنے کا۔اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا کرنے کا۔اللہ تعالیٰ کے لئے ایثار اور قربانی کرنے کا ، اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنے کا، اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھنے کا، اپنی فنا کے بعد اللہ تعالی سے ایک نئی اور پاک زندگی حاصل کرنے کا۔یہ اصل تعلق ہے اس کے بغیر تو کوئی تعلق تعلق ہی نہیں۔خدام الاحمدیہ کا کام ختم ہونے والا نہیں غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے تین سال میں خدام الاحمدیہ نے خاصی ترقی کی ہے لیکن پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کی طرح خدام الاحمدیہ کے لئے کوئی ایک چوٹی مقرر نہیں کہ جہاں جا کر وہ یہ سمجھیں کہ بس اب ہم