مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 211

211 فرموده ۱۹۶۹ء دد دو مشعل راه جلد د ، دوم تنظیم ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی موجود تھی۔پھر تحریک جدید ہے۔حضرت مصلح موعود نے دنیا بھر میں اشاعت اسلام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اور جماعت کی جدوجہد کو تیز اور اس کے جہاد بالقرآن میں ایک شدت پیدا کرنے کے لئے تحریک جدید کو قائم کیا۔پھر وقف جدید ہے۔اسی طرح وقف عارضی کا نظام ہے۔پھر موصیوں کی انجمن ہے۔گو اس کے کام کی بھی ابتداء ہے اور جو اس کی ذمہ داریاں ہیں ان کو نباہنے کے لئے یہ تنظیم بھی انشاء اللہ اپنے وقت پر نمایاں شکل میں سامنے آجائے گی۔خدام الاحمدیہ کے ساتھ مجلس اطفال الاحمدیہ ہے۔اس واسطے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔پھر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم ہے۔یہ نظمیں خلیفہ وقت کے اس ذکر کیا۔پھر ہاتھ میں ایک ہتھیار کی حیثیت میں بڑے ہی مفید کام کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔لیکن ہر تنظیم میں بعض دفعہ وقتی طور پر بعض کمزوریاں بھی آجاتی ہیں۔یہ خلیفہ وقت کا کام ہوتا ہے کہ ان کمزوریوں کو جس طرح وہ مناسب سمجھے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی اسے ہدایت ہو دور کرنے کی کوشش کرے۔بسا اوقات ایک ظاہر بین آنکھ اس کوشش کو دیکھ ہی نہیں سکتی۔جو کسی کمزوری کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔لیکن بہر حال خلیفہ وقت تو کسی وقت بھی اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہوسکتا خواہ دنیا دیکھے یا نہ دیکھے اور سمجھے یا نہ مجھے۔غرض جماعت کی کسی تنظیم میں بعض دفعہ عارضی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔اسے دور کیا جاتا ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ میں بھی بعض کمزوریاں پیدا ہوئیں۔اس ہال پر بھی بعض بد نما داغ لگے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔یہ داغ صاف کر دیئے گئے اور ان پر خوبصورت رنگ وروغن کر دیا گیا اور مجلس خدام الاحمدیہ جو آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر (آپ کے نقطہ نگاہ سے غیر محسوس طور پر ) تنزل کی طرف جارہی تھی۔اس میں زندگی کی رو پیدا ہوئی اور اس کے کاموں میں وسعت پیدا ہوئی۔کچھ اعداد و شمار آپ کے سامنے ہیں۔گو اس وقت زیادہ تفصیل سے تو نہیں بتائے جاسکے لیکن ہر لحاظ سے کمزوریاں جو تھیں وہ دور ہوئیں لیکن ابھی ہم اپنے کام میں سو فیصدی کامیاب نہیں ہو سکے اور میرے خیال میں انسان سو فیصدی کامیاب ہو بھی نہیں سکتا۔ورنہ اس کی جد و جہد ختم ہو جائے۔پس ابھی مزید ترقی بھی کرنی ہے۔اس لئے ایک طرف تو ہم سب کو ممنون ہونا چاہیے کہ آپ کے بے نفس صدر کا جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ بہت سی غلطیوں اور غفلتوں کو دور کرسکیں۔نیز بعض بدنما دھبوں کو اس مجلس کے چہرے پر سے دھو سکیں۔اور ایک خوبصورت رنگ میں ایک فعال جماعت کی حیثیت میں ایک تیز دھار والے روحانی آلہ کے طور پر اسے خلیفہ وقت کے ہاتھ میں رکھ سکیں۔کیونکہ بہر حال یہ روحانی تلوار خلیفہ وقت نے چلانی ہے زید یا بکرنے نہیں چلانی۔اور دوسری طرف مجھے خوشی ہوئی ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اب ایک مخلص اور بے نفس نوجوان صدر بنے ہیں۔جن کا جسمانی رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہیں لیکن جواللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس ذمہ داری کو نباہنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء اور اس کی مدد اور نصرت کے بغیر کوئی شخص صحیح اور صالح عمل نہیں