مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 209

209 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم نے توجہ نہیں کی اور اس سے ظالم کوئی بھائی نہیں جس نے اپنے ایک بھائی کو اس طرح کھڑے پایا اور اس میں روحانی حرکت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔پس ہمیں اپنی اس نئ نسل کی فکر کرنی چاہیئے۔ہمیں ان میں وہ اخلاص اور بشاشت پیدا کرنی چاہیئے جس اخلاص اور بشاشت کے بعد جب جان مانگی گئی تھی تو جان پیش کر دی گئی تھی اور جب مال مانگے گئے تھے تو مالوں کو لٹادیا گیا تھا جب عزتیں تلف ہو جانے کا سوال تھا تو انہوں نے عزتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی تھی اور جب ماؤں کے جذبات سے کھیلا جانے لگا تو ماؤں نے کہا اٹھا کر لے جاؤ میرے بچوں کو مجھے خدا کے مقابلے میں ان کی کوئی پر واہ نہیں۔ہم ان کی خاطر اللہ تعالیٰ کے دامن کو نہیں چھوڑ سکتیں۔حضرت مسیح موعود نے بہر حال غالب آنا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جیتنا تو ہے میں نے۔یہ تو مقدر ہے۔یہ تو ایسا فیصلہ ہے جو اٹل ہے۔لیکن میرے ساتھ شامل ہو کر برکتیں وہی حاصل کریں گے جو میری کامل طور پر اتباع کریں گے۔صرف لیبل نہیں لگائیں گے۔پس ہمیں اپنی حقیقت ذہنی اور حقیقت عملی یہ بنانی چاہیئے کہ ہمارے اندر حضرت نبی اکرم اللہ کا رنگ اور نور اس طرح چمکنے لگے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہت اختیار کر جائیں جن کے اندر حضرت نبی اکرم ﷺ کا رنگ اور نور کامل اور مکمل طور پر چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔صلى الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:- یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں۔اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ پیچ ہیں۔(انوار الاسلام صفحه ۲۳) اب ہم عہد کو دھرائیں گے اور اس کے بعد دعا پر یہ اجتماع ختم ہو جائے گا اور باہر سے تشریف لانے والے عزیز بچے اور نو جوان واپس جائیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے۔