مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 197
197 فرموده ۱۹۶۹ء خدا کی ذاتی محبت پیدا کرو دومشعل راه جلد دوم اس کے علاوہ آپ نے اس بات پر بھی بڑا زور دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پیدا کرنی چاہیئے ذاتی محبت اور دوسری محبت میں یہ فرق ہوتا ہے کہ جو عام محبت ہے اس میں محبت کرنے والا اس کا بدلہ چاہتا ہے یعنی ایسا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میری محبت کا جواب محبت میں ملے گا۔یا بعض دفعہ محبت اور دوستی کے تعلقات کے پردہ میں بعض لوگ دنیوی اموال تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔غرض ان دنیوی محبتوں کے ساتھ مختلف قسم کی اغراض وابستہ کر لی جاتی ہیں۔اور غافل اور جاہل انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھی ایسا ہی سمجھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ذاتی محبت پیدا ہونی چاہیئے اور جس کے اندر ذاتی محبت پیدا ہو جائے تو پھر اگر اسے خود اللہ تعالیٰ یہ فرمائے کہ میں تجھے ثواب نہیں دوں گا یا یہ فرمائے کہ کوئی جنت نہیں جس میں تجھے داخل کروں گا یا اللہ تعالیٰ یہ فرمائے کہ میری آنکھ میں تمہیں کوئی عزت نظر نہیں آئے گی مگر اس نے اپنے رب کا اس قسم کا حسن دیکھا ہوتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب! تو جو چاہے مجھ سے سلوک فرما۔مگر تیرا دامن میرے ہاتھ سے نہیں چھوٹ سکتا۔پھر ان ابتلاؤں کے بعد ماں سے زیادہ محبت و پیار کرنے والا رب ایسے شخص کو اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔قرآن کریم کی بابت ارشادات حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ ان مختلف عناوین یعنی اسلام قرآن عظیم آنحضرت ماه کے مقام اور ذات وصفات باری کی حقیقت پر لکھا ہے وہ تو ایک عظیم اور وسیع مضمون ہے۔میں اس وقت ان عناوین پر چند اشارے کرنا چاہتا ہوں۔میں نے ہر ایک عنوان کے متعلق ایک ایک دو دو فقرے لئے ہیں۔تا کہ جو عزیز بچے اور نوجوان اس وقت یہاں موجود ہیں وہ شاید کچھ سمجھ جائیں۔قرآن عظیم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے۔(ازالہ اوہام صفحہ ۲۸) پھر آپ فرماتے ہیں:۔اس کے دقائق تو بحر زخار کی طرح جوش ماررہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں۔کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہو۔کوئی حکمت نہیں جو اس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو۔(براہین احمدیہ صفحه ۶۴۳ حاشیہ نمبر۱۱)