مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 195

195 فرموده ۱۹۶۹ء الله دومشعل راه جلد دوم آپ کے اندر جملہ انسانی کمالات جمع تھے۔آپ کی استعداد تمام دوسرے انسانوں سے بدرجہا زیادہ تھی اور آپ قرآن عظیم کے بوجھ کو اٹھا سکتے تھے۔اور قرآن عظیم آپ کے وجود میں ایک نئی روشنی ایک نیا حسن پاسکتا تھا۔چنانچہ یہ آپ کے اپنے کمالات کا نتیجہ تھا کہ جہاں قرآن عظیم ہمارے ہاتھ میں دیا گیا وہاں آنحضرت نے کا اسوہ حسنہ بھی ہمارے سامنے رکھا گیا کیونکہ یہ دونوں پہلو بہ پہلو ایک ہی حسن کے دو منظر یا ایک ہی نور کی دو چکار میں ہیں۔ہمیں ایک تو تعلیم کے اندر نظر آئی اور دوسری کو ہم نے آپ کے عمل میں مشاہدہ کیا۔آپ کا یہ عمل ہمارے لئے کامل اسوہ قرار پایا۔اسلام نے قرآن نے اور حضرت محمد عہ نے جو حسن اور جو احسان ہمارے سامنے پیش کیا اپنے وجود میں اپنی تعلیم میں وہ اس لئے نہیں تھا کہ ہم قرآن عظیم کو ایک بت بنالیں الله آنحضرت ﷺ کی پوجا کرنی شروع کردیں بلکہ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا تھا کہ انسان خدائے واحد و یگانہ کے حسن واحسان سے متعارف ہو جائے اور اسلام نے اللہ تعالیٰ کو جو ایک زندہ طاقت اور ایک زبر دست طاقت اور ایک عظیم طاقت ہے اس کو دنیا کے سامنے رکھا تھا اور حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے اپنی روحانی آنکھوں کے ساتھ اپنے اس رب کریم اور رب رحیم اور رب قدیر کو دیکھا تھا۔جس کے جلووں کی جھلک میں انہیں اس کے قادرانہ تصرف نظر آئے تھے۔پس یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ ایک ذاتی محبت پیدا کر سکے۔من جب حضرت نبی اکرم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا اور جب اسلام اور قرآن عظیم کے حسن پر انسان نے گردو غبار کا ایک پردہ چڑھا دیا تو پھر انسان کے لئے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ اپنے رب کے حسن و احسان کا حقیقی مشاہدہ کر سکے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت نبی ماکے کے ایک ادنیٰ خادم اور آپ کے ایک عظیم روحانی فرزند کی حیثیت میں ہماری طرف مبعوث فرمایا۔آپ نے دین اسلام کی ہر چیز کو صاف کیا جہاں زنگ لگا ہوا تھا وہ دور کیا ہر قسم کا گردوغبار جو پڑا ہوا تھا اس کو صاف کیا۔جس کے نتیجہ میں اسلام کا جو سچا اور حقیقی چہرہ تھا اور قرآن کریم کا جو سچا حسن تھا وہ نکھر کر ہمارے سامنے آگیا اور جو آپ پر ایمان لائے آپ ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ ایک ایسا گروہ ہے جس کو یہ نظر آ گیا کہ اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا کر حقیقی اسلام کو قبول کرتے ہیں تو ہمیں اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑے گی مگر ان کے دلوں نے یہی فیصلہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کو پالینا یہ ایک بڑی بات ہے جان دے دینا کوئی بات نہیں۔یہ بڑا سستا سودا ہے۔انہوں نے جان دے دی مگر خدا تعالیٰ کے دامن کو نہیں چھوڑا۔ایک گروہ ایسا تھا کہ جن کو یہ نظر آیا کہ اگر ہم اس اسلامی صداقت کو قبول کریں گے تو ہماری عزت خاک میں مل جائے گی۔لیکن چونکہ انہوں نے صداقت کی چہکار دیکھ لی تھی اور اس حُسن کے وہ عاشق ہو چکے تھے انہوں نے کہا اس عارضی اور فانی دنیا کی عارضی اور فانی عزتیں کوئی چیز نہیں۔اصل عزت تو وہ ہے جو انسان اپنے رب کی نگاہ میں دیکھتا ہے دنیا ہمیں ذلیل کرتی ہے ذلیل سمجھتی ہے۔ہمارے ذلیل ہونے کا اعلان کرتی اور ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔مگر