مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 194

فرموده ۱۹۶۹ء 194 د و مشعل راه جلد دوم فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو محبت رکھی ہے اس کا یہ مطالبہ ہے کہ اے ہمارے رب! ہمارے دل میں ایک تڑپ ہے کہ ہم تیرے حسن کو دیکھیں اور اس میں ہی ہمیشہ مست رہیں لیکن کس طرح دیکھیں کیسے تجھ کو پائیں۔کیسے تیرے حسن واحسان کے جلوے ہم مشاہدہ کریں۔تو خود ہماری رہنمائی فرما۔اسی مطالبہ کا جواب انبیاءعلہیم السلام کا وجود ہوا کرتا ہے۔اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے اس مطالبہ کے جواب میں جو ایک فطری تقاضا تھا اس کو پورا کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بھیجا اور آپ کے ذریعہ سے ہمارے لئے ایک کامل اور مکمل شریعت نازل کی لیکن انسان بڑا غافل اور خطا کار اور ست اور کابل واقع ہوا ہے اس لئے مرور زمانہ کے ساتھ بہت سے گردو غبار اس شریعت کے اوپر پڑ گئے اور اس کے حقیقی اور دائمی حسن پر باطل کے پردے پڑ گئے۔انسان کے ہاتھ نے اس کے حسن کو ڈھانک لیا انسان کی آنکھ اس حسن سے حظ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر کیا کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گردوغبار کو صاف کیا۔انسان نے اس کے اندر جو ملاوٹیں کر رکھی تھیں ان ملاوٹوں کو دور کیا۔اسلام کا وہ حسین چہرہ جو اسی کا حق ہے وہ ہمارے سامنے رکھا۔قرآن کریم جو اتنی حسین اور محسن کتاب ہے اس کے متعلق جو غلط معانی راہ پاگئے تھے ان کی درستی کی اور قرآنی آیات کے صحیح معانی گئے۔قرآن کریم کے صحیح معانی اور صحیح اسرار روحانی جو ہماری آج کی اور قیامت تک ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری تھے وہ قرآن کریم میں کسی جگہ تفصیل سے اور کسی جگہ اجمال کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔آپ نے ان کی بہترین تفسیر اور تشریح کی۔آپ نے قرآن کریم کے متعلق اور اسلام کے متعلق جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ بڑا وسیع بیان ہے وہ سارا تو اس وقت پیش نہیں کیا جاسکتا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں آئے تو اس وقت اس گردو غبار کے نتیجہ میں جو خود مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام کے اس حسین چہرہ پر ڈالا گیا تھا غیر مذاہب والے یہ خیال کرتے تھے کہ وہ (نعوذ باللہ ) اسلام کو اس دنیا سے مٹادیں گے۔قرآن کریم کا نام بھی یہ دنیا بھول جائے گی۔تب ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گردو غبار کو دور کیا اور اسلام اور قرآن کریم کا چمکتا ہوا چہرہ جب دنیا کو دکھایا تو پھر آنکھیں خیرہ ہوگئیں دل دھڑکنے لگ گئے اور ان غیر مذاہب والوں کے دلوں میں ایک خوف پیدا ہوا اور اب ہم احمدیوں کے ساتھ کوئی بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اس قدر زبر دست عقلی دلائل اس قدر ز بر دست نقلی دلائل اور اس قدر ز بر دست آسمانی تائیدات جو اسلام کے حق میں ایک سمندر کی طرح موجزن تھیں لیکن اس تک پہنچنے کی راہیں باطل نے روک دی تھیں۔ان روکوں کو ہٹا کر اس راستے کو ہمارے لئے صاف کر دیا۔قرآن کریم اپنی تمام عظمتوں کی وجہ سے اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ جس پر یہ نازل ہو وہ بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تمام انسانوں سے بڑھ کر عظمت اور عزت کا مالک ہو چنانچہ اسی وجہ سے قرآن کریم حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل نہیں ہوا بلکہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے کیونکہ