مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 184
دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 184 سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث" نے اطفال الاحمد یہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر مورخہ ۱۸ ۱۷ خاء ۱۳۴۸ ہش (۱۸/اکتوبر ۱۹۲۹ء) کو جو تقریر فرمائی تھی اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سورہ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات کے متعلق جو ہدایت دی گئی تھیں اس کے متعلق اطفال سے دریافت فرمایا کہ کس کو اس ہدایت کا علم ہوا ہے۔اور کس کو ابھی تک علم نہیں ہوا۔اس جائزہ کے بعد حضور نے فرمایا :- ابتدائی سترہ آیات یاد کریں میں نے اس سے ایک عام اندازہ یہ لگایا ہے کہ باہر سے آنے والے بچوں کی اکثریت ایسی ہے جن کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ میں نے حال ہی میں جو ہدایت دی تھی وہ کیا تھی۔لیکن ربوہ میں رہنے والے اطفال میں سے بھی ایسے ہیں جنہیں اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہوا۔میں نے یہ ہدایت دے رکھی ہے کہ ساری جماعت چھوٹے بھی اور بڑے بھی سورۃ بقرہ کی پہلی سترہ آیات زبانی یاد کر لیں۔اب آپ نے میرے منہ سے بھی یہ ہدایت سن لی ہے۔دسمبر کی ۲۶۔۲۷ کو جب ہمارا جلسہ سالانہ ہوگا اس وقت تک آپ سب ان آیات کو حفظ کر لیں۔اور جو اطفال باہر سے آئے ہوئے ہیں وہ واپس جا کر تمام دوسرے اطفال کو بھی یہ بتا دیں کہ سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات زبانی یاد کریں یا آپ خود بھی ان کو شوق سے یاد کریں اور دوسروں میں بھی یاد کرنے کا شوق پیدا کریں۔کیونکہ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اجتماع میں شرکت کا موقع عطا کیا ہے۔باقی دوسرے بچے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اس اجتماع کی برکتوں سے محروم رہے ہیں اور میری اس ہدایت کو نہیں سن سکے آپ ان کو جا کر بتا ئیں تا کہ وہ اس سے محروم نہ رہیں اور دسمبر تک یہ سترہ آیات آپ سب کو یاد ہو جانی چاہئیں۔آ میں مختلف عمروں کے اطفال ہیں۔بعض تو بہت چھوٹی عمر کے ہیں بعض درمیانی عمر کے ہیں۔لیکن جو بڑے ہیں ان کو قرآنی آیات کا ترجمہ بھی سیکھ لینا چاہیئے۔البتہ چھوٹے بچے ان آیات کو صرف حفظ کر لیں۔کیونکہ اس عمر کے لحاظ سے حفظ کرنا بڑا آسان ہوتا ہے۔در اصل سات سے پندرہ سال کی عمر کا عرصہ حافظہ کی عمر ہے۔اس عمر میں بچوں کے ذہنوں پر حافظہ حکومت کرتا ہے۔پھر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک اور اچھا حاکم انہیں عطا کرتا ہے اور یہ ذہن اور فراست کی حکومت ہوتی ہے اس وقت ذہن اور فراست حاکم بنتا ہے یعنی سوچنا اور استدلال کرنا یا اس کو سمجھنا اور پھر اس سے فائدہ اُٹھانا۔وغیرہ