مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 176
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 176 دوسرے ان قوتوں اور قابلیتوں کو صحیح مصرف پر خرچ کیا جائے اور صحیح مصرف کے معنی اسلام میں یہ لئے گئے ہیں کہ ان راہوں پر چلا جائے یا ان طریقوں پر ان قوتوں کا استعمال کیا جائے کہ جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہوں اور جس کے نتیجہ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ہر چہار قسم کی قوتوں کی نشوونما ضروری ہے۔اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدام الاحمدیہ کے سارے پروگرام کسی نہ کسی قوت اور طاقت کی نشو ونما کے لئے بنائے گئے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے بعض پروگرام ایسے ہیں جن سے جسمانی نشو ونما ہوتی ہے۔بعض ایسے ہیں جن سے ذہنی نشو و نما ہوتی ہے۔بعض ایسے ہیں جن سے اخلاقی نشو و نما ہوتی ہے اور جن سے روحانی نشو ونما ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے بڑی تاکید سے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ چار قسم کی قو تیں طاقتیں ، قابلیتیں اور استعدادیں دی ہیں تم شکر گزار بندے بنا یعنی ان قوتوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے کوشش کرنا اور دوسرے جتنی جتنی قوت کسی کام کے قابل ہو اس کا استعمال اس رنگ میں ہو کہ جس طرح یہ تو تیں اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو کے نیچے آتی ہیں۔اسی طرح تمہارے افعال بھی اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اخلاق کا رنگ اپنے پر لئے ہوئے ہوں اور اسی کا نام قرب الہی ہے۔مثلاً اللہ نور ہے۔اگر بندہ کے افعال میں اور اس کی قوتوں کے اظہار میں نور کا پہلونہ ہو۔تو اللہ تعالیٰ جو نور محض ہے جونور کامل ہے وہ اس اندھیرے سے محبت نہیں کر سکتا وہ اس کے قریب نہیں آسکتا۔کیونکہ نور اور اندھیرا ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ظلمت یا اندھیرا اللہ تعالیٰ سے دوری کا نام ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام قوتوں کی (ہر چار قسم کی تمام قوتوں کی ) ایک تو صحیح نشو ونما کرنے والے ہوں اور دوسرے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کا صحیح استعمال کرنے والے ہوں۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم ہمیشہ یہی کوشش کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی کوشش کرتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم خداداد قوتوں کا شکر ادا کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا۔یعنی اگر تمہاری قوتوں کی صحیح نشو ونما ہو جائے تو یہ تمہارے لئے مفید ہوگی۔مثلاً تمہارے اندر ایک قوت اللہ تعالیٰ نے تیرا کی کی رکھی ہے اور یہ ایک جسمانی قوت ہے۔اگر تم اپنی اس جسمانی قوت کو اس کے کمال نشو ونما تک پہنچاؤ گے تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا۔فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ (فرقان آیت ۱۳) تم میں سے بہت سے سیر کے لئے دریا کے کنارے جاتے ہیں اور پھر دریا کے کنارے سیر پر جانے والوں میں سے بہت سے خاندانوں کا بعض دفعہ کوئی بچہ پانی میں گر جاتا ہے۔اگر اس جسمانی قوت یعنی تیرنے کی قوت کی صحیح نشو و نما ہو تو اس کا ایک فائدہ تو نمایاں ہے کہ وہ چھلانگ لگاتا ہے اور اپنے اس بچے یا عزیز کو ڈوبنے سے بچالیتا ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ جسمانی قوتوں کی صحیح نشو ونما کے نتیجہ میں ایک دوسرا قدم اٹھا نا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا یعنی تمہاری یہ جسمانی نشو ونما تمہاری ذہنی نشو ونما کا ذریعہ بنے گی۔جس طرح ربوبیت کا جلوہ اس صفت کی نشو و نما کے نتیجہ میں ظاہر ہوا۔پھر تمہاری ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں رحمانیت کا جلوہ ظاہر ہو جائے گا۔جس وقت انسان نے اپنی تیرا کی کی قوت کی نشو ونما کرنی شروع کی تو ساتھ ہی