مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 175

175 فرموده ۱۹۶۹ء دد دو مشعل راه جلد دو فضل کے معنی میں دوسری بات یہ پائی جاتی ہے کہ جن کو وہ عطایا نصیب ہوئیں ان کا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق نہیں تھا اور بغیر استحقاق حق کے اللہ تعالیٰ نے محض رحمت کے جوش میں اور اس محبت کے جوش میں جو وہ اپنے بندوں کے لئے رکھتا ہے انہیں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا۔پس ایک تو اسے کوئی احتیاج اور ضرورت نہیں۔اور دوسرے اس پر کسی کا کوئی حق نہیں۔لیکن ان ہر دو صورتوں کے باوجود اس نے اپنے بندوں پر بڑے ہی فضل کئے۔لیکن بہت ہیں جو اس بات کو سمجھتے نہیں اور ناشکری پر اتر آتے ہیں۔فضل کا لفظ ہر قسم کی عطایا پر بولا جاتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو زندگی دی اسپر بھی فضل کا اطلاق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس زندگی کو سنوانے کے لئے اور اس زندگی میں خوشحالی پیدا کرنے کے لئے جو مادی اسباب بنائے ان پر بھی فضل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت کے قیام کے لئے جو سامان پیدا کئے اور اسے اس دنیا میں محترم اور مختار بنایا۔اس کے لئے بھی فضل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قو تیں اور قابلیتیں اور استعدادیں عطا کی ہیں۔ان قوتوں اور قابلیتوں اور استعدادوں پر بھی فضل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔غرض ہر وہ چیز (آسمانی ہو یا زمینی ) جو رب کے حکم سے انسان کو ملی وہ فضل ہے۔ایک تو ہمارا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ ہمیں ملتی۔اور دوسرے یہ کہ رب عظیم کو کوئی ضرورت نہیں تھی کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وہ یہ فضل کرتا۔فضل کے جو مختلف معانی ہیں ان میں سے صرف ایک معنی کو میں اس وقت لینا چاہتا ہوں۔اور وہ قوت، قابلیت اور استعداد ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے ہمیں پتہ لگتا ہے۔چار مختلف بنیادی قابلیتیں اور استعدادیں عطا کی ہیں۔ایک تو اس کی جسمانی قوتیں ، قابلیتیں اور استعدادیں ہیں جن کی نشو و نما انسان کرتا ہے یا بعض دفعہ وہ ایسا نہیں بھی کرتا۔جب وہ ان کی نشو و نما کرتا ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جب نہیں کرتا تو وہ نقصان اٹھاتا ہے۔بہر حال بہت سی قو تیں اور قابلیتیں ، طاقتیں اور استعداد میں انسان کو جسمانی نشوونما کے لئے ملی ہیں۔ایک اور قسم کی قوتیں اور قابلیتیں ہیں جو انسان کو اس کی ذہنی نشونما کے لئے ملی ہیں۔پھر ایک اور گروہ قوتوں اور قابلیتوں کا ہے جو انسان کو اس کی اخلاقی نشو ونما کے لئے ملی اور چوتھی قسم قوتوں اور قابلیتوں کی وہ ہے جو اسے روحانی ارتقا اور روحانی نشو ونما کے لئے ملی ہیں۔جو و تیں جسمانی نشو و نما کے لئے ملی ہیں وہ ایک لحاظ سے ایک زاویہ نگاہ سے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے پر تو کے نیچے ہیں جو قو تیں اور قابلیتیں اسے ذہنی نشو و نما کے لئے ملی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے پر تو کے نیچے ہیں۔جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرآن اور جو قو تیں اور قابلیتیں اس کی اخلاقی نشو ونما کے لئے اسے ملی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمیت کے پر تو کے نیچے ہیں اور جو قو تیں اور قابلیتیں روحانی نشو ونما کے لئے ملی ہیں۔روحانی ارتقاء کے لئے ملی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے پر تو کے نیچے ، ہیں۔یہ چار صفات خدا داد ہیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بندہ پر فرض قرار دیا گیا ہے۔اور شکر کے معنے یہ لئے گئے ہیں کہ ایک تو ان ہر چہار قسم کی قوتوں کی صحیح نشو ونما کے لئے کوشش کی جائے اور