مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 164
فرموده ۱۹۶۹ء 164 د دمشعل را ل راه جلد دوم مقام کے متعلق اظہار کر رہے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ایک عکس اور انعکاس تھے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی شکل کا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ ایک فتح کے موقع پر خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اور ان جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہماری کوششیں کیا تھیں جو کچھ بھی ہمیں ملاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا۔سواری پر سوار تھے اور اس عاجزی کے جذبات میں خدا تعالیٰ کے حضور آہستہ آہستہ جھکنا شروع ہوئے یہاں تک کہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ آپ کا سر گھوڑے کی پیٹھ کو لگ گیا۔پس اس قدر عاجزی رب کے حضور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دکھاتے ہیں اور آپ کے روحانی فرزند دکھاتے ہیں تو ہمارا عاجزی کا پھر کونسا مقام ہے اگر ہم اس عاجزی کے مقام کو نہیں پہچانتے تو حقیقی تو حید کیسے قائم کریں گے۔پس توحید خالص کے قیام کے لئے نفس کے حق کی ادائیگی ضروری ہے اور اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کی کمزوریوں کو اس کی آفات کو اور اس کے رزائل کو اور اس کی ہلاکتوں کو پہچانے اور سمجھے اور پھر یہ کوشش کرے کہ میں اپنے نفس امارہ کے کہنے میں نہیں آؤں گا۔حق نفس سے تعلق رکھنے والی توحید علمی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو قابلیتیں رکھی ہیں۔جن اچھے اخلاق کو وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر سکتا ہے اس کا بھی اسے علم ہو کیونکہ اگر اسے محض منفی علم ہو یعنی آفات نفس کا اسے علم ہور ذائل اور ہلاکتوں کا علم ہو۔نفس امارہ کے جو مفسدانا احکام اپنے نفس ہی کو مل رہے ہوتے ہیں ان کا علم ہو تو ٹھیک ہے۔عاجزی کے مقام کو اس نے پالیا لیکن روحانی ترقیات وہ کیسے کرے گا اس لئے ساتھ ہی اس کو اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا بھی علم ہونا چاہئے جو اس پر بارش کے قطروں کی طرح برستے اور جن کے نتیجہ میں وہ روحانیت کی وسعتوں اور روحانیت کی رفعتوں میں لا انتہاء حرکت کر سکتا ہے یعنی قرب الہی کی کوئی منزل نہیں ہے جہاں جا کر ٹھہر جانا ہے۔پس انسان کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے میرے اندر کیا قابلیت رکھی ہے۔قرآن کریم میں دو تعلیمیں پائی جاتی ہیں ایک کو ہم کہتے ہیں عادت اور ایک کو ہم کہتے ہیں اخلاق۔جو تعلیم ادب کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہے وہ وحشی کو انسان بنا دیتی ہے اور جو اخلاق سے تعلق رکھنے والی ہے وہ انسان کو با اخلاق انسان بنا دیتی ہے اور پھر آگے بتایا ہے کہ میرے بتائے ہوئے اخلاق پر خود بھی چلو اور دوسروں کو بھی چلاؤ تب تیم روحانی ترقیات حاصل کر سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو قوت رکھی ہے اس کے مقابلہ میں ایک حسین تعلیم دی ہے اس کو ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اخلاق اور عادات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو حسین تعلیم ہمیں دی ہے اس میں ہر پہلو کے مقابلے میں ہماے اندر ایک قابلیت اور استعداد رکھی گئی ہے کیونکہ ایس حکم دینا جو انسان کرہی نہ سکے اس کی طاقت سے باہر ہو یہ اللہ تعالیٰ کی خدائی پر ایک داغ ہے ایک دھبہ ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہی حکم دیتا ہے جس کو ادا کرنے میں جس کو تسلیم کرنے میں جس کو بجالانے میں انسان بالکل معذور نہ ہو بلکہ اس کی وہ قابلیت رکھتا ہو۔جتنی بھی اخلاقی تعلیم ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں اخلاقی قوتیں اورقابلیتیں انسان کو عطا ہوتی ہیں پس انسان کو اپنے نفس کے اس پہلو کو بھی پہچانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑا فضل کیا اور اس کو بڑی قابلیتیں