مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 163
163 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم نفس انسانی کے وہ رذائل اور بد خصلتیں جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں ان کو اچھی طرح سے پہچان لینا۔قرآن کریم نے اس پر بھی بڑی روشنی ڈالی ہے مثلا تکبر ہے، حسد ہے، بدلنی ہے، خوداری ہے، خود نمائی ہے، یہ انانیت ہے کہ میں ہی کوئی چیز ہوں۔یہ نفس کی بہت بڑی آفات ہیں۔یفس کی بد خصلتیں ہیں یہ نفس کی بیماریاں ہیں جو نفس کو لاحق ہو جاتیں ہیں۔ان آفات نفس کو پہچانا ضروری ہے یعنی اپنے اندر جو جو ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔بسا اوقات انسان اپنے مقصد حیات کو بھول کر نفس امارہ کے احکام پر چل پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی گود میں بیٹھنے کی بجائے شیطان کے قدموں میں جا بیٹھتا ہے۔پس ہمارے لئے یہ بات بڑی ضروری ہے کہ ہم ان آفات کو پہچانیں اور ہمیں پتہ ہو کہ تکبر توحید کے خلاف ہے اور نفس کے لئے ایک مہلک مرض ہے۔اسی طرح حسد بھی بڑی بری مرض ہے۔پھر انا ہے جتنے بزرگ اولیاء اللہ امت محمدیہ میں گزرے ہیں ان سب کا بالاتفاق یہ فیصلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کو کوئی شخص اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کا اپنا وجود قائم رہے جب تک اس کی انانیت قائم رہے جب تک انا کی آواز اس کے نفس سے نکلتی رہے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ اس صورت میں انسان قرب الہی کو حاصل کر سکے۔پہلوں نے بھی اپنے متعلق بہت کچھ کہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بہت کچھ لکھا ہے اور ہمارے لئے اس کے اندر بڑا سبق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے نفس کو مخاطب کر کے یہ کہنا کہ :- کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں اسی حقیقت کا غماز ہے۔آپ کا یہ کہنا کہ جو مل کرتے ہیں وہ تو اپنے عمل کا نتیجہ پاتے ہیں۔میں نے تو اے میرے پیارے خدا تیرے حضور کوئی عمل نہیں کیا کوئی مجاہدہ نہیں کیا تو نے محض اپنے فضل اور رحمانیت کے جلوے سے مجھے وہ کچھ دے دیا جو دیا اس میں میری اپنی کوشش اور میری کسی خوبی کا دخل نہیں ہے۔بیسیوں جگہ آپ نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔آپ کی اردو، عربی اور فارسی نثر بالعموم اور منظوم کلام بالخصوص اس اظہار سے بھرا پڑا ہے۔ایک حقیقی احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام کو پہنچانتا ہے جب وہ اس قسم کے فقرات کو پڑھتا ہے تو اس کی جو حالت ہونی چاہئے آپ اس کا اندازہ لگائیں میں نے کئی دفعہ سوچا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رب کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے ہیں:۔کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں تو میں کن الفاظ میں اپنے رب کو پکاروں۔الفاظ نہیں ملتے جن سے میں اپنی نیستی کا اظہار کروں اپنے پیچ ہونے کا اظہار کروں اور اپنے لاشی محض ہونے کا اظہار کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہچانا۔اس لحاظ سے میرا اور آپ کا جو نبتی فرق ہے وہ فرق میرے اظہار میں بھی تو ہونا چاہیئے اس سے بھی گر کر مجھے اپنے رب کے حضور جھکتا چاہئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتنا جھک گئے ہمارے لئے اب یہ مشکل ہے کہ ہم کون سے الفاظ کہاں سے کس زبان سے لے کر آئیں کہ جو ہمارے