مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 161

161 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد پس اللہ تعالیٰ نے ان امہات الصفات یعنی چار بنیادی صفات کا سورۃ فاتحہ میں ذکر فرمایا۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سی صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ہی رزاق ہوں میں ہی غفور ہوں، میں ہی عزت کا سرچشمہ ہوں، میں ہی رفعتوں کی انتہاء تک پہنچانے والا اور اپنی طرف کھینچنے والا ہوں، میں ہی ہر قسم کے قادرانہ تصرف کا مالک یعنی قادر مطلق ہوں۔اللہ تعالیٰ کی یہ اور دوسری صفات قرآن کریم میں کثرت سے بیان ہوئی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کا پہلا حق ہم پر یہ ہے کہ ہم اس کی صفات کی معرفت حاصل کریں۔دراصل ہماری روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے کوششوں کی یہ ابتداء ہے۔ہمارے لئے پہلا ضروری قدم یہ ہے کہ ہم اس کی صفات کو اچھی طرح سمجھنے لگ جائیں۔ان سے واقفیت حاصل کر لیں اور قرآن کریم کی صفات باری کے متعلق جو تعلیم ہے وہ ہمارے لئے نور کا ایک کالر بن جائے ایک روشنی بن جائے تا کہ ہمارے لئے سہولت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے حصول کی طرف قدم بڑھانا ممکن ہو جائے۔پس پہلا حق اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کی پہلی قسم اس کی صفات کا پہچاننا ہے۔اللہ تعالیٰ کا دوسراحق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت حاصل ہو جائے تو پھر عملاً اپنی زندگی میں اس حق کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے خالص اور کامل اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی کرنا اور اس پر بھروسہ رکھنا اور اس میں گم اور فنا ہو جانا۔ہمارا کوئی فعل اور ہمارا کوئی ترک فعل ہماری کوئی حرکت یا کوئی سکون یا ہماری توجہ کا کسی قسم کا مبذول ہو جانا سوائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اور کوئی خاصہ نہ رکھتا ہو۔ہمارے ہر فعل میں یہ بنیادی خصوصیت ہو کہ ہمارا ہر فعل اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہو اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو اور اس بات کو ظاہر کر رہا ہو کہ گویا ہم اس کے وجود میں اور اس کی صفات میں فنا ہو گئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے حق کے یہ دو پہلو ہیں ایک یہ کہ اس کی صفات کو جانا اور پہچانتا اور دوسرایہ کہ کامل اور چی اور حقیقی اطاعت صرف اسی کی کرنا اور کسی غیر اللہ کی طرف نگاہ نہ کرنا۔جو شخص اللہ تعالیٰ کو حقیقی معنوں میں اپنا رب سمجھنے لگ جائے وہ ربوبیت کے حصول کے لئے کسی اور کے پاس تو نہیں جائے گا۔جو شخص اللہ تعالیٰ کو صیح معنوں میں رحیم سمجھنے لگ جائے وہ اپنی جد و جہد اور اپنی کوشش اور عمل کے نتیجہ کے لئے کسی اور کی طرف تو متوجہ نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے عمل کے میدان میں اپنے اندر یہ احساس رکھتا ہو کہ خواہ میں کس قدر عمل کر لوں میری ضرورت ( اور ضرورت یہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرلوں ) اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کے جلوے مجھے نہ دکھائے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا کامل عرفان اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ساری زندگی گزارنا یہ اللہ تعالیٰ کے (اس کے بندوں پر ) حق کے دو ( علمی اور عملی ) پہلو ہیں۔ان دونوں کے بغیر ہماری زندگی میں وہ تو حید قائم نہیں رہ سکتی جو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے۔تو حید کے قیام کے لئے ایک اور حق ہے جس کو ادا کرنا ضروری ہے اور یہ عباد کا حق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے