مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 159

159 فرموده ۱۹۶۹ء د دمشعل راه جلد دوم سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۲۹ ء پونے چھ بجے احمد یہ ہال میں جو خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - آپ نے ابھی اپنی رپورٹ سن لی ہے۔کراچی کی مجلس اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی حد تک فعال مجلس ہے تا ہم اس قدر فعال نہیں جس قدر جماعت احمدیہ کی ایک مجلس کو فعال ہونا چاہئے۔پھر بھی آپ جس رنگ میں کام کر رہے ہیں اور جن جن پروگراموں پر عمل پیرا ہیں وہ بڑے اہم ہیں۔جو خدام مجلس کے ایسے پروگراموں کو بنانے کے لئے مجلس کے ساتھ تعاون نہیں کرتے یا کسی بھی کام میں حصہ نہیں لیتے انہیں توجہ دلاتے رہنا چاہئے تا کہ وہ غفلت کے پردوں سے باہر نکل کر فعال زندگی گزارنے لگیں۔ہمارا اصل مقصد آج میں اپنے عزیز بچوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جو بھی مختلف پروگرام یا کام کرنے کے جو بھی مختلف شعبے بنارکھے ہیں یہی ہمارا اصل مقصد نہیں ہے۔ہمارا اصل مقصد قرآن کریم کی روشنی میں تو حید خالص کو کو قائم کرنا ہے اور قرآنی تعلیم اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا رہنا ہے۔ایک خاص جہت کی طرف انسان کی ہر حرکت و سکون اس غرض کے لئے ہے کہ تو حید حقیقی جلوہ گر ہو۔تو حید حقیقی کے قیام کے لئے تین قسم کے حقوق ادا کرنے پڑتے ہیں۔ایک تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے دوسرے اس کے بندوں کا حق ہے اور تیسر۔ہمارے اپنے نفس کا حق ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو اپنا حق واجب قرار دیا ہے اس کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ایک قسم تو وہ ہے جو ہمارے اپنے وجود سے تعلق رکھتی ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار مختلف پیرایوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی ذات وصفات کو بیان فرمایا ہے اور ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم و عرفان رکھنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اس کے حق کے ہم پر واجب ہے پس بنی نوع انسان کے لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی ذات وصفات کا علم و عرفان حاصل کریں کیونکہ اس کے بغیر تو حید حقیقی کا قیام ممکن ہی نہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بنیادی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف اور