مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 136

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 136 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس چیز پر بڑا زور دیا ہے۔آپ نے یہ فرمایا ہے اور اس میں ہم سب سے دراصل دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کا حکم ہے کہ ایک دفعہ دوستانہ تعلق اگر کسی سے قائم ہو جائے خواہ اس کا عقیدہ اور اس کی عادات اور اس کی سیاست اور ہو اور دوست کو اس سے اختلاف ہو تو پھر بھی دوستانہ تعلقات کا قائم ہو جانا اور قائم رہنا ایک طبعی امر ہے پھر ایسی دوستی کو نباہنا چاہیے۔دوستانہ تعلق اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد آپ نے فرمایا ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر ہمارا کوئی دوست شراب کے نشے میں گندی نالی میں بے ہوش پڑا ہو تو ہم اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کے گھر لے جائیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ دُنیا کیا کہتی ہے۔اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اتنا بلند روحانی مقام اور یہ آپ کی حسن وفا۔پس دوستی کریں اور پھر اس کو نا ہیں۔آپ کے دوست کو یہ احساس ہونا چاہیے اور اسے یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ احمدی دوست اس سے کبھی بے وفائی نہیں کرے گا اسے کوئی دکھ نہیں پہنچائے گا۔بلکہ جب بھی موقع ہوگا جس حد تک اس کے امکان میں ہے اس کی مدد کرے گا۔اچھے دوست کی پہچان عربی لٹریچر میں دوستی کا ایک بڑا مشہور قصہ بیان ہوا ہے۔ایک دشمن اپنے بیٹے سے کہتا رہتا تھا کہ تم نے اچھے دوستوں کا انتخاب نہیں کیا یہ ضرورت کے وقت تمہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔باپ کی نصیحت سنتے سنتے آخر تنگ آ کر بیٹے نے ایک دن کہا کہ آپ مجھے بتا ئیں تو سہی اچھا دوست ہوتا کس قسم کا ہے۔کوئی نمونہ بتا ئیں تا کہ میں سمجھ سکوں۔اس نے کہا اچھی بات۔ایک دن رات کے بارہ ایک بجے اس نے بیٹے کو اٹھایا اور کہا کہ چلو تمہیں بتائیں کہ دوست کس قسم کا ہوتا ہے خیر وہ اسے لے گیا اور ایک دوست کے گھر پر جا کر اس نے دستک دی۔پوچھا کون ہے۔اس نے بتایا میں فلاں ہوں اور اس کے بعد خاموشی ہوگئی اور وہ دیر تک باہر نہ آیا۔کچھ دیر کے بعد بیٹا اپنے باپ سے کہنے لگا کہ اچھا ایسے ہی دوست ہوتے ہیں۔باپ نے کہا تم دیکھتے رہو۔کوئی ہمیں پچیس منٹ کے بعد وہ دوست باہر آیا تو اس نے زرہ بکتر پہنی ہوئی تھی اور نیزہ اور تیر کمان اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور علاوہ از میں دو تھیلیاں بھی ہاتھ میں پکڑی ہوئیں تھیں اور کہنے لگا کہ تمہارے اس بے وقت آنے سے میں نے سمجھا کہ ضرور تمہیں کوئی کام در پیش ہے جس کی وجہ سے تم آدھی رات کو میرے پاس پہنچے ہو۔میں نے سوچا کہ دو میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔یا تو کوئی دشمن ہے جس کے ساتھ تم لڑ نا چاہتے ہواور میری مددکی تمہیں ضرورت ہے یا تمہیں پیسے کی ضرورت ہے۔پس میں پوری طرح تیار ہو کر آیا ہوں۔اگر کسی سے لڑائی کرنی ہے تو چلتے ہیں اور اگر تمہیں پیسے کی ضرورت ہے تو لو اشرفیوں کی تھیلیاں لے کر آیا ہوں یہ لے جاؤ۔حالانکہ ابھی تو اس نے اس سے کچھ کہا بھی