مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 125
125 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۸ کو بعد دو پہر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے اختتامی اجلاس میں خدام سے ایک نہایت روح پرور اور پر ولولہ خطاب فرمایا جس کا ملخص پیش کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ علیہ نے اپنے گزشتہ خطاب کے تسلسل میں جو اجتماع کے افتتاح کے موقعہ پر آپ نے فرمایا تھا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ، اس کے رسول کی اور باہم ایک دوسرے کی امانتوں کو پورے طور پر ادا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سی بشارتیں دی ہیں۔اللہ امانت ادا کرنے والوں کو بشری للمومنین اور بشری للمحسنین کے الفاظ میں ، رسول کی امانت ادا کرنے والوں کوبشرا لمحسنین اور باہمی امانت ادا کرنے والوں کو لتبشر به المتقین کے الفاظ میں بشارت دی گئی اہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان امانتوں کو بجالانے کا طریق کیا اختیار کیا جائے؟ اس کا جوا۔بشر المخبتين کے الفاظ میں ہے کہ عاجزی کی راہوں کو اختیار کر ک نیز فرمایا کہ حکم کی بہترین اطاعت کر کے۔بشارتوں کے وعدے اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اگر چہاللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے وعدے حق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری بشارتوں کے وارث بننے کیلئے تمہیں میری راہ میں تکالیف اور مصائب کو بھی بشاشت سے قبول کرنا ہوگا۔جیسے فرمایا: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: ۱۵۶ - ۱۵۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی قرآنی تعلیم کے مطابق اور حضرت نبی کریم ﷺ کی سنت کی اتباع میں ہمیں خدائی بشارتوں کے وعدے بھی دیئے ہیں اور ابتلاؤں اور مصائب کی خبریں بھی دی ہیں۔اس ضمن میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے چند اقتباسات پیش فرمائے۔جن میں یہ ذکر ہے کہ تم خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تم کو تعلیم دیں گے۔پس ماریں کھاؤ اور صبر کرو۔اس کے بعد حضور نے ان خدائی بشارتوں اور وعدوں کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ سے کئے تھے اور کفار کے ان لرزہ خیز مظالم کا تذکرہ فرمایا جنہیں آنحضرت مایا اللہ عليم