مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 117
117 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم دو کہ جب تک ایک احمدی نوجوان ہر سہ معنی میں الامین نہیں بنتا وہ خدا تعالیٰ کے ان انعامات اور فضلوں کا وارث نہیں بن سکتا جن کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں دئے گئے ہیں۔بی کریم ﷺ کی سنت پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اتنی گہرائی اور وسعت اس میں نظر آتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔میں اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔نبی کریم ﷺ کی ایک سنت یہ ہے کہ کھانا اس وقت تک شروع نہ کیا جائے جب تک سامنے پانی نہ پڑا ہو۔اب دیکھیں آپ کتنی بار یکی میں گئے ہیں۔بعض دفعہ کھانا کھاتے ہوئے انسان کو اچھو آ جاتا ہے اور کئی آدمیوں کی موت محض اس وجہ سے واقع ہوگئی کہ انہوں نے کھانا شروع کر دیا تھا اور ان کے پاس پانی موجود نہ تھا۔انہیں اچھو آیا اور پھر موت سے انہیں بچایا نہ جاسکا۔صلى الله غرض رسول کریم ﷺ نے چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ہمارے لئے ایک ایسا نمونہ قائم کیا ہے کہ اگر ہم اس کی اتباع کریں تو دنیوی فوائد بھی ہمیں حاصل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار بھی ہمیں ملے گا۔کیونکہ یہاں یہ جو کہا ہے کہ تم رسول کی خیانت نہ کیا کرو اس کا انعام دوسری جگہ بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری محبت حاصل کرنا چاہتے ہو تو بی کریم ﷺ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرو۔آپ کی محبت کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ اور آپ کی سنت کی اتباع کرد بھی اور صرف اسی وقت تمہیں میری محبت مل سکتی ہے۔غرض اگر ہم نے الا مین بننا ہے تو اتباع سنت نبوی اور اشاعت وا جراء سنت نبوی ضروری ہے۔پس خدام الاحمدیہ سے بنیادی طور پر جماعت احمدیہ اور خلفائے احمدیت دو مطالبے کرتے ہیں ایک یہ کہ وہ حقیقی معنی میں القوی بنے کی کوشش کریں اور دوسرے یہ کہ بچے معنی میں الامین بننے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق عطا کرے کہ ہم اس کی نگاہ میں القوی اور الائین بن جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو پھر ہمیں کوئی خوف و خطرہ باقی نہیں رہتا۔(بحوالہ روزنامه الفضل ۱۵ /اکتوبر ۱۹۶۹ء)