مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 109

109 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد پہلی صفت ایک خادم میں القوی کی ہونی چاہیئے جب ہم لغت کو اور قرآن کریم کی اصطلاح کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ السقوۃ کے ایک معنی المقدرة کے ہیں اور یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں لیکن آگے پھر ہر قسم کی قوتوں کی معنی میں اس لفظ کو عربی زبان اور اللہ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔اس کے معنی بدن کی قوت کے بھی ہیں۔اس کے معنی دل کی قوت اور مضبوطی کے بھی ہیں۔اس کے معنی اس قوت کے بھی ہیں جو خارجی اموال اور اسباب سے حاصل کی جاتی ہے اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ کی قوت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بھی ہیں اس معنی میں بھی قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ایک بے مثل رنگ میں کامل قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے اس لئے اس معنی میں تو انسان کے متعلق اس لفظ کو استعمال نہیں کیا جا سکتا سوائے ظلی طور پر لیکن جو تین معنی دوسرے ہیں ان میں یہ لفظ انسان کے لئے استعمال ہو سکتا ہے اور قرآن کریم ان تینوں معنوں میں اسے استعمال کرتا ہے۔جسمانی طور پر مضبوط پہلے معنی ہیں جسم کی قوت یعنی صحت ہو اور مضبوط قوی ہوں مضبوط جسم ہو محنت کرنے کے قابل جو ہر قسم کی سختیاں برداشت کر سکے خدام الاحمدیہ کے پروگرام میں مختلف شعبوں میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے مثلاً ہم ورزشی مقابلے کرواتے ہیں اور وقار عمل کرواتے ہیں اور ہم یہ وعظ کرتے ہیں کہ کھانے میں توازن کو قائم رکھا کرو اور اس متوازن غذا کو ہضم کرنے کے سامان پیدا کیا کرو غذا کے ہضم کرنے کا ایک سامان تو ورزش ہے اور ایک سامان یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے تو بھوک ہو تو کھاؤ اور ابھی بھوک ہو تو کھانا چھوڑ دو اس سے بھی کھانا جلدی ہضم ہو جاتا ہے اور جزو بدن بن جاتا ہے جوشخص بغیر بھوک کے کھالیتا ہے اور پھر کھاتا چلا جا تاہے بھوک اس کی ختم ہو جاتی ہے لیکن زبان کے چسکہ کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ غذا کھا لیتا ہے ایسے شخص کا معدہ خراب ہو جاتا ہے۔سوہ ہضم میں وہ مبتلا ہو جاتا ہے اور کھانا جزو بدن نہیں بنتا اور انسانی جسم کی صحت کو قائم رکھنے کی بجائے اسے بیمار کر دیتا ہے۔غرض ایک خادم کے لئے القوی کے ایک معنی یہ ہوں گے کہ وہ اپنی زندگی کو اس طرح الله گزارے کے مناسب وقت میں وہ ورزش کر رہا ہو کھانے میں محتاط ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کا فر کھانے کی مقدار کے لحاظ سے کبھی عقل سے کام نہیں لیتا کیونکہ جب وہ کھانے پر آتا ہے تو کھاتا چلا جاتا ہے لیکن ایک مومن عقل سے کام لیتا ہے اور جتنی غذا کی اس کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے اور جتنی اس کا نظام ہضم جزو بدن بنا سکتا ہے اس کے مطابق وہ غذا استعمال کرتا ہے۔کھانے کے ہضم کے لئے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لئے مناسب آرام کی بھی ضرورت ہے اس لئے اطباء یہ کہتے ہیں کہ دو پہر کے کھانے کے بعد کچھ آرام کر لینا چاہیئے اور رات کے کھانے کے بعد کچھ ورزش کر لینی چاہئیے چاہے وہ ہلکی ہی کیوں نہ ہو غرض میں نے بتایا ہے کہ القوی کے اس معنی کے مطابق خدام الاحمدیہ کے بعض پروگرام ہیں مثلا ورزشی مقابلے ہیں وقار عمل ہے۔