مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 100
د دمشعل ل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 100 صحابه رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مالی قربانیاں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ نے فنافی الرسول اور فنافی اللہ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی اور ان کی خلق جدید ہوئی۔یہودیوں کے برعکس ان کا یہ حال تھا کہ ایک موقعہ پر ایک جنگ کی تیاری کیلئے بہت سے اموال کی ضرورت تھی اور ان دنوں کچھ مالی تنگی بھی تھی اور دنیا ایسی ہی ہے۔کبھی فراخی کے دن ہوتے ہیں اور کبھی تنگی کے دن ہوتے ہیں۔اس موقعہ پر بھی تنگی کے ایام تھے اور جنگی ضرورت تھی۔نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر آگئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے کر آگئے۔حضرت عثمانؓ نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کر لی جائے کہ میں دس ہزار صحابہ کا پورا خرچ برداشت کروں گا۔اور اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے دیئے۔اسی طرح تمام مخلص صحابہ نے اپنی اپنی توفیق اور استعداد کے مطابق مالی قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بہترین نتائج نکالے۔ایک موقعہ پر ایک نو مسلم قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگیا اور ان کو آباد کرنے کا سوال تھا۔وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے ہوں گے کیونکہ ان دنوں وہاں بھی مخالفت بہت زیادہ تھی جیسا کہ کبھی کبھی ہر زمانہ میں اسلام کے خلاف ہر ملک میں مخالفت پیدا ہوتی رہتی ہے اور مومن ان مخالفتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے دنیوی سامانوں پر نہیں ہوتا۔بہر حال ایک قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آیا تو ان کے آباد کرنے کیلئے مال کی ضرورت تھی۔آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو مالی قربانیاں پیش کرنے کی تلقین کی۔آپ کی اس اپیل کے نتیجہ میں ہر شخص نے یہ سوچا کہ میرے پاس جو چیز زائد اور فاضل ہے وہ میں لا کر پیش کر دوں لیکن ” فاضل“ کے معنی انہوں نے وہی کیئے تھے جو ایک مومن کیا کرتا ہے انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارے پاس دو درجن کوٹ ہونے چاہئیں اور پچاس قمیصیں ہونی چاہئیں اور ایک دو پھٹی پرانی قمیصیں جو بریکار پڑی ہیں اور استعمال میں نہیں آتیں وہ لا کر دے دی جائیں بلکہ ان میں سے اگر کسی کے پاس کپڑوں کے دو جوڑے تھے تو اس نے کہا میں ایک جوڑے میں گزارا کر سکتا ہوں دوسرا جوڑا زائد ہے چنانچہ اس نے وہ جوڑ پیش کر دیا۔ایک صحابی کے پاس کچھ سونا تھا انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا یہ عمدہ موقع ہے۔رسول کریم ﷺ نے ضرورت ہمارے سامنے رکھی ہے اور ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کریں چنانچہ و اشرفیوں کا ایک تو ڑا ( جو وہ اچھی طرح اٹھا بھی نہیں سکتے تھے ) لے آئے اور رسول کریم علیہ کی خدمت میں پیش کر دیا اور اس طرح غلہ، کپڑوں اور روپے کے ڈھیر لگ گئے اور خدا تعالیٰ نے مومنوں کے اس ایثار کے نتیجہ میں ایک پورے قبیلہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے سامان کر دئے۔ان دو واقعات کے بیان کرنے سے اس وقت میری یہ غرض نہیں کہ میں یہ بتاؤں کہ صحابہ کرام کس قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے بلکہ میری غرض یہ بتانا ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جس روح کا صحابہ کرام نے مظاہرہ کیا وه