مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 89
89 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد د دوم جھکی رہے اور اس کی روح پکھل کر اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر بہہ نکلے۔یہ اسلام ہے اور جتنا جتنا کسی کو اسلام حاصل ہو جائے اتنے اتنے ہی اس کے اعمال صالحہ بن جاتے ہیں اور بنتے رہتے ہیں۔پس اپنے اندر یہ روح پیدا کر دیا مجھے یوں کہنا چاہئیے کہ اپنی روح میں یہ جلا پیدا کرو اور اس عرفان پر قائم ہونے کی کوشش کرو کہ ہمیں ایک اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور کوئی نقصان اور برائی اس میں پائی نہیں جاتی اور اس نے ہمیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کی صفات کے مظہر بنیں۔ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو اس کی کسی صفت سے متضاد ہو بلکہ ہمارا ہر عمل ایسا ہو جو ہمارے ذریعہ اس کی کسی صفت کا جلوہ ظاہر کر رہا ہو۔اگر ہم اس عرفان کو حاصل کر لیں۔اگر ہم اپنے رب کو پہچان لیں۔اگر ہم اس حقیقت کو پالیں۔اس مقصد کو حاصل کر لیں جس کیلئے اُس نے ہمیں پیدا کیا۔اور ایک دن ہم نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دہی کرنی ہے۔اس نے ہم سے جواب لینا ہے کہ میں نے تمہیں ایک خاص مقصد کیلئے پیدا کیا تھا اور میں نے تمہیں قو تیں اور استعدادیں بھی بخشی تھیں جن کے بغیر تمہارے لئے اس مقصد کا حصول ناممکن تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کے بس میں نہ ہو۔اس کی طاقت میں نہ ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کیلئے طاقت دی ہے اور استعداد دی ہے کہ ہم اس کی صفات کے مظہر بنیں لیکن اگر ہماری روح اس عرفان کو حاصل نہ کرے۔اگر ہماری روح ہر وقت اس کے آستانہ پر بہہ نہ نکلے۔اگر ہماری گردن اس کے سامنے ہر وقت جھلی نہ رہے تو جو تو ہم سے چاہتا ہے۔ہم وہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔جب تک یہ کیفیت روح میں پیدا نہ ہو اس وقت تک اعمال صالحہ ہم سے سرزد نہیں ہو سکتے۔دکھاوے کا کام، نمائش کا کام تو ہم ویسے بھی کر سکتے ہیں۔لیکن دکھا وا نمائش اور ریاء کے کام خدا تعالیٰ کے مقبول نہیں ہیں خدا تعالیٰ کو تو وہی عمل مقبول اور محبوب ہیں جو محض اس کی خاطر اور اس کی رضاء کے حصول کیلئے کئے جائیں اور جب انسان کی روح میں یہ تڑپ اور یہ عاجزی اور یہ انکسار اور یہ حقیقت پیدا ہو جائے کہ اس نے اپنے پیدا کرنے والے کی رضاء کو حاصل کرنے کی ضرور کوشش کرنی ہے اور وہ اس دعا میں ہمیشہ مشغول رہے۔کہ اے خدا تو نے مجھے قو تیں اور استعداد میں تو دی ہیں لیکن میں بہر حال تیرا کمزور بندہ ہوں اگر کبھی غلطی کروں تو اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے مجھے ڈھانپ لے۔اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہو تو تو خود فضل کر کے اس کے بدنتائج سے مجھے محفوظ کر لے۔اور مجھے توفیق عطا کر کہ جو قو تیں اور استعداد میں تو نے مجھے عطا کی ہیں ان کو صحیح راہوں پر میں خرچ کرنے والا بنوں تا کہ میرا ارتقائے روحانی درجہ بدرجہ تیرے قرب کی منازل طے کرتے ہوئے مجھے تیرے قریب ترلے آئے اور تا اس کے نتیجے میں اس دنیا میں مجھ سے وہ اعمال صالحہ سرزد ہوں کہ جو اس باغ کیلئے ایک اچھے پانی کا کام دیں جو تو نے صحیح اعتقادات ہمیں عطا کر کے ہمارے لئے جنتوں کی شکل میں لگایا ہے۔پس آج اور آج کے بعد بھی میں آپ ( جو میرے چھوٹے بچے ہو ) پر یہ زور دیتا رہوں گا۔کہ اعتقادات سیکھو مگر عمل کرنے کیلئے جو اسباق آپ یہاں لیتے ہیں وہ فلسفیانہ نہیں بلکہ وہ زندگی کا ایک جزو ہیں۔فلسفہ کی کتب سے تھیوریز Theories ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اسلام نے جو احکام ہمیں