مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 67
67 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم چاہتا ہے تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ انجینئر نہ بنو لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ تم کوئی اور پیشہ اختیار کرنے کے باوجود علم قرآن اتنا تو سیکھ لو کہ جب تمہیں دنیا استاد بنانا چاہے تو تم استاد بننے کے قابل ہو۔کیونکہ تم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ تم دنیا کے استاد معلم اور راہبر بنو گے۔زیادہ نسلیں تو نہیں گزریں ہماری لیکن جو بھی چھوٹوں سے بڑے ہوئے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ کیا تھا کام لیا ہے یا کام پر بلایا ہے ان میں سے بہتوں نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور خدا کی راہ میں کام کئے اور انہوں نے اس کی رضا کو حاصل کیا۔زیادہ تو نہیں لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح ادا نہیں کیں اللہ تعالیٰ فضل کرے ان پر۔لیکن تم پر جو آج بچے ہو جو ذمہ داری عائد ہونے والی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو آج کی نسل پر پڑ رہی ہے۔اس لئے ہمیں ہر وقت یہ فکر رہتا ہے کہ تمہاری صحیح تربیت ہو اور تربیت کے لئے جو بنیادی چیزیں ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم پر اس نے بڑے احسان کئے ہیں۔ہمیں اسے پہچاننا چاہیے اور اس کے احسانوں کو سامنے رکھ کر اس کے لئے اپنے دل میں محبت پیدا کرنی چاہیے۔دیکھو ماں کے لئے بچہ کے دل میں محبت ہوتی ہے۔کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو بیوقوفی سے اپنی ماں سے محبت نہیں رکھتے۔ان کی تعداد لاکھ میں سے ایک ہوگی لیکن اکثریت ایسی ہے کہ ان میں سے ہر بچہ اپنی ماں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے اس لئے محبت کر رہا ہوتا ہے کہ ہر ماں اپنے بچے سے محبت کر رہی ہوتی ہے۔اور اس محبت اور پیار کے نتیجہ میں بچہ کے دل میں اس کے لئے محبت اور پیار پیدا ہوتا ہے۔جتنا پیار ایک ماں اپنے بچہ سے کرتی ہے اگر میں کہوں کہ یہ اس پیار کا لاکھواں حصہ ہے جو خدا اپنے بندہ سے کر رہا ہے تو یہ غلط ہوگا۔اگر میں کروڑواں حصہ بھی کہوں تب بھی یہ غلط ہوگا۔اگر میں اربواں حصہ بھی کہوں تب بھی یہ غلط ہوگا۔اس کی ہر چیز پر نظر ہے۔آج سے لاکھوں سال پہلے اس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ بچے پیدا ہونے والے ہیں ان کے لئے انتظام کرنا چاہیئے اور اس نے انتظام کیا۔تمہاری نسل روٹی کھاتی ہے۔یہ روٹی گندم سے نتی ہے۔اور یہ گندم جو آج ہم کھا رہے ہیں یا تمہیں بچپن سے مل رہی ہے وہ اس گندم سے مختلف ہے جو ہم اپنے بچپن کے زمانہ میں کھایا کرتے تھے۔یہ ا یک بار یک بات ہے تم اسے سمجھنے کی کوشش کرو میں سمجھا دوں گا تمہیں۔اصل وجہ جو ہے وہ تو شاید بہتوں کو سمجھ نہ آئے اس لئے میں مختصر طور پر کہتا ہوں کہ دنیا میں سائنس نے یہ تحقیق کرلی ہے کہ ستاروں کی روشنی دنیا کی تمام چیزوں پر اثر انداز ہورہی ہے۔یعنی گندم کے پکنے میں یہ اثر انداز ہوتی ہے۔درختوں پر، ترکاریوں پر اور دوسرے دانوں پر سورج چاند اور ستاروں کی روشنی کا اثر ہے۔تمہارا دماغ اس بات کو سمجھے یانہ مجھے لیکن اتنی بات سمجھ لو کہ ستاروں کی روشنی کا اثر گندم پر پڑتا ہے۔جب ہم بچے تھے تمہاری عمر کے اس وقت اور آج کے زمانہ کے درمیان بہت سارے ستاروں کی روشنی پہلی دفعہ زمین پر پڑنی شروع ہوئی ہے۔پہلے وہ روشنی گندم پر نہیں پڑتی تھی اب پڑ رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گندم کے پکنے میں جو آج ہم کھاتے ہیں بہت سے ایسے ستاروں نے بھی حصہ لیا ہے جنہوں نے اس وقت کی گندم کے پکانے میں حصہ نہیں لیا تھا جو اس زمانہ میں تھی جب ہم بچے تھے۔اب دیکھو آج کی گندم مختلف ہو گئی۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہار۔