مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 66

دومشعل دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 66 کے احکام پر عمل کریں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اتنا پیار کرنا شروع کیا کہ ہزاروں آدمی افریقہ میں اس وقت ایسا ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کلام کرتا ہے۔کچی خوا ہیں انہیں دکھاتا ہے۔ان سے کچھ وعدے کرتا ہے۔اس دنیا کے بھی اور اس دنیا کے بھی۔اور اس دنیا کے وعدے ان کے سامنے پورے ہو جاتے ہیں۔بیسیوں آدمی ایسے بھی ہیں جن سے آج اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا اور وہ حیران ہوا کہ اللہ تعالیٰ مجھے کیا کہہ رہا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آرہا۔لیکن دس پندرہ دن کے بعد وہ وعدہ پورا ہو گیا۔گیمبیا کے ایک احمدی حبشی تھے۔وہ بڑے نمازی اور دعا کرنے والے ہیں۔ان کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔بریکار تھے بیچارے۔بڑے پریشان تھے۔ایک دن وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ تو اتنے پونڈ پر نوکر ہو جائے گا۔ویسے تو دنیا میں نوکریاں ملتی بھی ہیں اور بہتی بھی ہیں اور اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ واقعہ میں خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ میں قادر خدا جو ہوں تم سے وعدہ کر رہا ہوں اس وعدہ کو چند دن بعد پورا کر دیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا کہ تم سولہ پاؤنڈ ماہوار پر نوکر ہو جاؤ گے۔اور ابھی چند دن نہیں گزرے تھے کہ انہیں نوکری مل گئی اور تنخواہ بھی انہیں بالکل اتنی ملی جو انہیں بتائی گئی تھی۔غرض اس قسم کی قرب کی راہیں اللہ تعالیٰ ان پر کھول رہا ہے۔اور سکول کے زمانہ میں تو ہم اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ اسلام دنیا میں غالب کیسے آئے گا اور اب اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتنا فضل کیا ہے کہ اپنا قرب ان کو عطا کر دیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ماں اپنے بچہ کو اپنے سینہ سے لگا لیتی ہے اسی طرح ان قوموں کو جو اسلام لا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو پہچانے لگی ہیں انہیں اب اللہ تعالیٰ اپنے سینہ سے لگا رہا ہے اور ان پر اپنے فضل کر رہا ہے۔سو میں آج اپنے بڑوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہتا کہ افریقہ میں بھی اسلام لانے والے پیدا ہو جائیں گے۔ان کے دلوں میں حقیقی اسلام کی نیکی پیدا ہو جائے گی کیونکہ یہ تو ہو چکا لیکن آج جو بات میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ آپ کے لئے اتنی ہی حیران کن ہے جتنی وہ باتیں جو ہمارے بزرگ کیا کرتے تھے ہمارے لئے حیران کن تھیں۔لیکن جس طرح وہ باتیں اپنے وقت پر پوری ہو گئیں۔اسی طرح آپ یقین رکھیں کہ یہ باتیں بھی جو میں آج آپ سے کہہ رہا ہوں اپنے وقت پر ضرور پوری ہو جائیں گی۔آج میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ہاں اسی فضل کے نتیجہ میں جو وہ آج اسلام پر کر رہا ہے یہ کہنے کے قابل ہوں کہ آپ جو اس وقت چھوٹی عمر میں میرے سامنے بیٹھے ہیں جس وقت آپ بڑے ہوں گے اور آپ کی عمریں ۲۵ ،۳۰، ۳۵، ۴۰ سال کی ہوں گی اس وقت دنیا کی اکثریت اللہ تعالیٰ کو پہچان چکی ہوگی انشاء اللہ اور وہ آپ سے مطالبہ کرے گی کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ۔اگر آج اس عمر میں آپ نے اسلام نہ سیکھا تو جس وقت دنیا آپ کو کہے گی کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ تو آپ انہیں کیسے اسلام سکھائیں گے۔اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ دنیا کمانا برا ہے یا دنیا کمانے کی جو راہیں ہیں انہیں آپ اختیار نہ کریں۔اگر تم میں کوئی ڈاکٹر بنا چاہتا ہے تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم ڈاکٹر نہ بنو۔کوئی انجینئر بننا