مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 57

57 فرمودہ ۱۹۶۷ء دومشعل راه جلد دوم ۲۱ اکتوبر ۱۹۶۷ مجلس اطفال الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں سیدنا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے جو تقر میر ارشاد فرمائی اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اسلام کو اس مذہب کو جو میں نے تیرے ذریعہ دنیا میں بھیجا ہے ) ساری دنیا میں دو دفعہ غالب کروں گا۔ایک آپ کے وقت میں اور ایک ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب آپ کے روحانی بیٹے پیدا ہوں گے۔جن کا نام آنحضرت ﷺ نے بھی مسیح اور مہدی رکھا اور جنہیں آپ نے اپنا سلام بھجوایا۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ اس وقت میں اسلام کو ساری دنیا میں دوبارہ غالب کروں گا اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان دو زمانوں کے درمیان اسلام پر تنزل کا ایک زمانہ آئے گا۔اگر تنزل کا زمانہ نہ ہوتا تو پھر پہلا غلبہ دنیا میں قائم رہتا اور یہ غلبہ قیامت تک چلا جاتا لیکن چونکہ ایسا نہیں ہونا تھا اور اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ وعدہ دیا گیا کہ آپ کے وقت میں اسلام غالب آئے گا اور یہ وعدہ دیا گیا کہ آپ کے عظیم روحانی فرزند کے زمانہ میں اسلام پھر تمام دنیا میں غالب آ جائے گا۔جس وقت یہ وعدہ دیا گیا اس وقت نبی کریم علے کے ساتھ گنتی کے چند مسلمان تھے اور وہ بڑی تکلیف میں اپنی زندگی گزار رہے تھے۔چونکہ اس وقت کے لوگوں نے خدا تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھا نہیں تھا اور محمد رسول اللہ اللہ کی شان کو پہچانا نہیں تھا اس لئے وہ سمجھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور ہمیں اپنے اس مذہب سے جو ہمارے باپ دادوں کا مذہب ہے اور ورثہ میں ہم نے ان سے لیا ہے گمراہ اور بدظن کرنا چاہتا ہے۔پس انہوں نے سمجھا کہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور اپنی پوری طاقت خرچ کر کے اس کو مٹادیا جائے۔شروع میں چونکہ اسلام صرف مکہ ہی میں تھا اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ اسے مکہ سے مٹادیا جائے اور بعد میں جب اسلام عرب میں پھیلنا شروع ہوا تو انہوں نے سمجھا کہ ہم نے اسے اپنے ملک میں نا کام کردینا ہے اور ورثہ میں ملنے والے عقائد (ماننے والی باتیں) کو قائم رکھنا ہے۔مختلف قسم کی عبادتیں۔بتوں کے سامنے سجدہ کرنا وغیرہ ان کے عقائد تھے۔لیکن چونکہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور چونکہ اللہ تعالیٰ تمام طاقتوں اور قدرتوں والا ہے اور چونکہ اللہ جب کچھ کہتا ہے تو وہ پورا کر دکھاتا ہے۔نہ وہ بے وفائی کرتا ہے اور نہ کوئی کمزوری اس کے اندر موجود ہے۔سب طاقتیں اور قدرتیں اس کے اندر موجود ہیں۔اسی لئے اگر چہ ساری دنیا نے اسلام کی مخالفت کی لیکن پھر بھی اسلام ساری دُنیا میں غالب آ گیا اس وقت دنیا نے یہ سمجھا کہ پندرہ بیس یا سود و سو مسلمان ہیں۔تلوار میں نکالو ( ان دنوں تلوار سے جنگ ہوتی تھی مرغ جنگ نہیں ہوا کرتی تھی کہ جس شکل میں کہ آپ ابھی لڑ رہے تھے۔اب اس جنگ کی