مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 573
573 فرموده ۱۹۸۱ء دد د و مشعل راه جلد دوم مکرم لئیق احمد صاحب طاہر نے کی۔اس کے بعد حضور نے سب خدام سے کھڑے ہو کر ان کا عہد دو ہروایا۔بعد ازاں مکرم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نے حضرت اقدس کا شیریں کلام نہایت مؤثر انداز میں ترنم سے پڑھ کر سنایا۔بعد ازاں حضور نے بورڈ اور یو نیورسٹیوں کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء کو تحفے تقسیم فرمائے اور بعد میں اجتماع کے مقابلوں میں اہم پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو انعامات عطا فرمائے۔حضور تین بج کرترین منٹ پر منبر پر تشریف لائے اور خدام اور دیگر حاضرین کو اپنے خطاب سے نوازا۔حضور انور کا خطاب چار بج کر پچپن منٹ تک جاری رہا۔اس طرح حضور نے قریباً ایک گھنٹہ خطاب فرمایا جس کے بعد حضور نے دعا کروائی اور السلام علیکم ورحمہ اللہ برکاۃ اور خدا حافظ و ناصر فرما کر واپس تشریف لے گئے۔حضور انور نے اپنے خطاب کا آغاز تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت سے فرمایا۔حضور نے اپنے خطاب کے آغاز میں خلافت (قدرت ثانیہ ) کے نظام کی برکات اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ ساری برکات اسی انظام سے وابستہ ہیں جو کہ ب ساری دنیا میں پھیل گیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں سب کے لئے دعائیں کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ان کی قبولیت کے نشان بھی دکھلاتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہر احمدی جو خدا پر تو کل رکھتا ہے اس یقین پر قائم ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ غیرت رکھتا ہے اور اس کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے اور جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کی اتباع میں سلسلہ کے لئے غیرت دکھاتا ہے وہی کامیابی اور برکتیں حاصل کرتا ہے اور جو شخص یہ سمجھتا کہ مجھ میں بہت سی قابلیتیں ہیں اور اب میں اپنے زور سے کامیابیاں حاصل کروں گا اور مجھے خلافت کی دعاؤں کی کوئی ضروت نہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔حضور نے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی غیرت کا ایک واقعہ بطور مثال سنانے کے بعد فرمایا کہ خدا نے حضرت اقدس کو ایک مقصد کے لئے بھیجا ہے اور وہ مقصد مرزا غلام احمد قادیانی کی عزت کو قائم کرنا نہیں بلکہ حمد صلی اللہ لیہ وسلم کی عزت کو ساری دنیا میں قائم کرنا ہے۔اس مقصد کے لئے جو چاہئے تھا اللہ نے ہمیں دے دیا ہے۔علم اور دلائل کی دولت عطا کرنے کے علاوہ ہمارے دلوں میں اپنے جانی دشمنوں کا بھی پیار پیدا کر دیا ہے۔حضور نے اس ضمن میں ۱۹۷۴ء کے بعض ایمان افروز واقعات سنائے اور فرمایا کہ محمد صلی اللہ علہ وسلم کے طفیل بڑی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ہر انسان جو پیدا ہوا ہے اس نے مرنا ہے لیکن خلافت کا سلسلہ ایسا ہے کہ ایک شخص جو جاتا ہے وہ برکتوں سے بھری ہوئی جھولی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ پچھلے سال خدام الاحمدیہ کے صدر کا جو انتخاب ہوا اس میں ووٹوں کے لحاظ سے محمود احمد صاحب ( موجودہ صدر خدام الاحمدیہ ) پانچویں نمبر پر تھے اور میں یہ سبق جماعت کو دینا چاہتا تھا کہ جن چار کو ووٹ زیادہ ملے ان کے کام میں برکت ان کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے گا وہی برکت حاصل کرے گا۔چنانچہ پانچویں نمبر پر جو محمود احمد بنگالی صاحب تھے ان کو میں نے صدر مقرر کر دیا۔بڑے مخلص آدمی ہیں اللہ ان کے اخلاص میں ترقی دے۔بڑا کام کیا دعائیں لیں۔