مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 572

مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 572 حضرت خلیفہ اصسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۲۵ اکتو برا ۱۹۸ء کی اختتامی تقریب میں خطاب ارشاد فر مایا اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ربوه ۲۵ اکتو بر حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ربوہ اور لجنہ اماءاللہ مرکز ی ربوہ کے سالانہ اجتماعات کے آخری روز خدام ولجنات اور دیگر زائرین کو خطاب سے نوازا۔حضور کا یہ خطاب اجتماع خدام کے ساتھ ساتھ لجنہ اماءاللہ کے اجتماع میں بھی سنایا گیا۔حضور انور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ چار قو تیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کی گئی ہیں۔جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی۔ان میں سے ہر استعداد کے میدان میں احمدی مردوں اور عورتوں کو ساری دنیا سے آگے نکل جانا چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ اسی طرح ہی اسلام دنیا میں غالب آ سکتا ہے۔حضور نے صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ محترم محمود احمد صاحب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ برکت اسی کو ملے جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے کیونکہ ساری برکتیں اسی نظام سے وابستہ ہیں۔اس کے سوا کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا مرتبہ حاصل نہیں کر سکتی۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ۳۷ ویں سالانہ اجتماع کا اختتامی خطاب ارشاد فرمانے کے لئے حضور انور ساڑھے تین بجے کے قریب مقام اجتماع واقع گھوڑ دوڑ گراؤنڈ تشریف لائے۔حضور کی کار کے مقام اجتماع میں داخل ہوتے ہی سٹیج سے دھیمی آواز میں لالہ لہ اللہ کا ورد شروع کیا گیا۔پنڈال کے باہر صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ محترم محمود احمد صاحب اور ان کی مجلس عاملہ کے ارکان نے حضور انور کا استقبال کیا۔حضور انور کے پنڈال میں داخل ہوتے ہی جملہ حاضر میں خدام ، اطفال اور انصار زائرین احتراما کھڑے ہو گئے۔سٹیج سے اس وقت جو نعرے لگائے گئے اور جن کا خدام نے پور جوش و جذبہ سے فلک شگاف آوازوں میں جواب دیا وہ یہ تھے۔نعرہ تکبیر، حضور خاتم الانبیاء زنده باد، اسلام زندہ باد، خانه کعبه پائندہ باد، احمدیت زنده باد، ناصر الدین زنده باد فاتح الدین زندہ باد، امن کا سفیر مرزا ناصر احمد زندہ باد، مرزا غلام احمد کی جے، خلافت احمد یہ زندہ باد اور خلیفہ ز والقر نین زندہ باد۔نعروں کی گونج ختم ہونے کے بعد حضور نے جملہ حاضرین کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور خدام کو بیٹھنے کی ہدایت فرمائی۔اس کے بعد صدر محترم محمود احمد صاحب نے پندرہ بار اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ان کے اللہ اکبر کہنے کے جواب میں خدام بھی پورے جوش اور ولولہ سے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ان کا جواب دیتے رہے۔اس کے بعد چند مرتبہ انہوں نے لا الہ الا اللہ کا ورد کیا۔اس کے بعد تلاوت قرآن کریم سے اختتامی اجلاس کا باضابطہ آغاز ہوا جو کہ